27 اکتوبر 2026 - 01:16
تعز کی محاصرے کی خبر جھوٹ ہے؛ لوگ سعودی تشہیراتی مہم کے دھوکے میں نہ آئیں، یمن

یمن کے قائم مقام وزیر اطلاعات نے علاقائی اور غیر ملکی خبر ایجنسیوں کو شہر "تعز" کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ یمن کی قومی نجات حکومت کے قائم مقام وزیر اطلاعات "عمر البخیتی" نے سوموار کی شام کو کہا: "بین الاقوامی ذرائع ابلاغ تعز کا دورہ کرکے اس شہر کے حالات کو قریب سے دیکھ سکتے ہیں اور یمنی فوج کی جانب سے اس شہر کے محاصرے کے بارے میں جھوٹے دعوؤں کو قریب سے جانچ سکتے ہیں۔"

عمر البخیتی نے نے مزید کہا: "ہم ذرائع ابلاغ کے تعز شہر کے دورے کو آسان بنانے کے لئے تیار ہیں تاکہ وہ اس شہر کے میدانی حالات کو قریب سے دیکھ سکیں۔"

انھوں نے کہا: "یمنی فوج کی جانب سے تعز شہر کے محاصرے کا دعویٰ جھوٹ اور بہتان ہے۔"

انھوں نے کہا: "اس سے قبل تعز کے گورنر نے اعلان کیا تھا کہ حکومت کے زیرِ کنٹرول سڑکیں خوراک، ادویات اور پٹرولیم مصنوعات لے جانے والے ٹرکوں کے لئے کھلی ہیں۔"

انھوں نے کہا: "حقیقت یہ ہے کہ فی الحال سعودی عرب کے اجرتی فوجی تعز شہر میں اس شہر کے لوگوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور یمنی فوج اس شہر کے آس پاس تعینات ہے۔"

انھوں نے کہا: "یمن کی حکومت نے سعودی عرب کے دھوکے میں آنے والے یمنیوں سے مخاطب ہوکر بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ عام معافی کے موقع سے فائدہ اٹھا کر اس شہر سے نکل سکتے ہیں۔"

ادھر باخبر ذرائع کہتے ہیں کہ سعودی عرب نے اپنے اجرتی فوجیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی یمنی شہری کو تعز شہر سے ـ کسی صورت میں بھی ـ نکلنے کی اجازت نہ دیں اور اس شہر کو کسی صورت میں یمنی حکومت کے ہاتھوں آزاد نہیں ہونا چاہئے!

البخیتی نے کہا:  "سعودی عناصر اور ان کے اجرتی فوجی ذلت آميز شکستوں کے بعد دوبارہ منظم ہوئے ہیں اور علاقے میں ان کے اقدامات اور نقل و حرکت کی وجہ سے تعز شہر کے حالات خراب ہو گئے ہیں کیونکہ سعودی عرب کے اجرتی فوجی کے غیر انسانی اقدامات کی وجہ سے شہر میں بنیادی ضرورت کی اشیاء کا داخلہ محدود ہو گیا ہے اور شہریوں کی آمدورفت میں بھی مشکل پیش آئی ہے۔

اس یمنی اہلکار نے زور دے کر کہا: "ذرائع ابلاغ کسی بھی قسم کا مؤقف اختیار کرنے سے پہلے احتیاط سے کام لیں اور معلومات کی درستگی کی سے مطمئن ہونے کے بعد ہی خبریں شائع کیا کریں۔"

البخیتی نے آخر میں کہا کہ عام لوگوں کو ایسی گمراہ کن میڈیا بیانیوں کے جال میں نہیں آنا چاہئے جو سعودی میڈیا اور اس کے اجرتی فوجی شائع/ نشر کرتے ہیں۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha