اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،حسین الحاج حسن نے ان حلقوں کے الزامات کے جواب میں، جو حزب اللہ پر سیاسی کشیدگی بڑھانے اور ملک کے حالات خراب کرنے کا الزام عائد کرتے ہیں، کہا کہ بعض لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ حزب اللہ نے اپنے مؤقف میں سختی پیدا کی ہے اور انتباہات جاری کیے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنے مطالبات بڑھانے اور جارحانہ اقدامات کرنے والا فریق اسرائیل اور اس کے ساتھ امریکہ ہے، جبکہ لبنان کی قیادت بھی ان کے مطالبات کا جواب دے رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ لبنان میں کشیدگی کی ذمہ دار حزب اللہ نہیں، بلکہ امریکہ اور اسرائیل ہیں، جبکہ لبنانی قیادت ان کے ساتھ تعاون اور ان کے مطالبات کا جواب دے کر اس صورتِ حال میں کردار ادا کر رہی ہے۔
حسین الحاج حسن نے یہ باتیں شمالی بقاع کے علاقے میں حزب اللہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ ایک سیاسی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ حزب اللہ لبنان میں استحکام کی خواہاں ہے۔ ان کے بقول، ہم چاہتے ہیں کہ لبنان ان تمام بحرانوں سے نکلے، لیکن بحرانوں سے نکلنے والا لبنان ایک آزاد، خودمختار اور باوقار ملک ہونا چاہیے، نہ کہ ایسا ملک جو ہتھیار ڈال دے، سر جھکا لے، دوسروں کا تابع بن جائے یا بیرونی سرپرستی قبول کر لے۔
لبنان کے داخلی امور میں امریکی سفارت خانے کی مداخلت کا ذکر کرتے ہوئے الحاج حسن نے کہا کہ سفارت خانے کے اقدامات لبنان کے سیاسی فیصلوں پر سرپرستی مسلط کرنے اور ان پر قبضہ جمانے کے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم بیرونی سرپرستی کی بات کرتے ہیں تو امریکی سفیر کی موجودگی میں یہ صورتِ حال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ وہ لبنان کے قوانین تبدیل کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق، امریکی سفیر پارلیمان کے اسپیکر اور ارکان کی جگہ لینا، ارکانِ پارلیمان کو جمع کرنا اور ان سے اسرائیل کے بائیکاٹ سے متعلق قانون منسوخ کرنے کا مطالبہ کرنا چاہتا ہے۔
الحاج حسن نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ بیرونی سرپرستی نہیں؟ انہوں نے کہا کہ معاملہ محض سرپرستی تک محدود نہیں، بلکہ یہ لبنان کے سیاسی فیصلوں پر قبضہ جمانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کے مؤقف کی بنیاد قومی خودمختاری، آزادی، استقلال، لبنان کے وقار کے تحفظ اور ملکی مفادات کے دفاع پر ہے، جبکہ امریکہ دباؤ ڈال رہا ہے اور اسرائیل کے مفادات کے مطابق اپنے مطالبات پیش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب امریکی خطے میں امریکہ کے مفادات کی بات کرتے ہیں تو درحقیقت ان کی مراد اسرائیل کے مفادات ہوتے ہیں۔
لبنانی پارلیمان کے اس رکن نے آخر میں حزب اللہ کے حالیہ مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد لبنانی قیادت کو امریکہ کے دباؤ اور احکامات کے سامنے جھکنے کے سنگین خطرات سے آگاہ کرنا ہے۔ ان کے مطابق، اس طرح کی پسپائی لبنان کی صورتِ حال، استحکام، قومی اتحاد اور ملکی طاقت کو متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ لبنانی قیادت ان خطرات کا ادراک کرے گی اور امریکہ کے احکامات کے سامنے جھکنے کے ممکنہ نتائج کو سنجیدگی سے مدنظر رکھے گی۔
آپ کا تبصرہ