25 اکتوبر 2026 - 10:43
2 | نماز انسان کو خودغرضی سے خیرخواہی تک پہنچاتی ہے

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے ایران اور خطے کے مستقبل پر موجودہ تبدیلیوں کے اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا: یہ تصادم ایران کی سرحدوں سے آگے تک، نتائج کا حامل ہو سکتا ہے، اور دیگر قوموں کی قسمت پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ اس لئے ایرانی معاشرے کو چاہئے کہ وہ حالات صحیح ادراک کرے، اتحاد و یکجہتی کو برقرار رکھے اور اندرونی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے، شعوری طور پر ذمہ داری کے ساتھ اپنی قسمت کا تعین کرے۔/ موجودہ تصادم ایک فوجی جھڑپ سے بڑھ کر ہے۔ دشمن ایرانی قوم کی مذہبی، تاریخی اور ثقافتی تشخص کو کمزور کرنے اور ایرانی-اسلامی تہذیب کو مٹا دینے کے درپے ہے اور ہمیں ثابت قدمی اور استقامت کے ساتھ ملک کی علاقائی سالمیت، تہذی و ثقافت اور تشخص کا دفاع کرنا چاہئے۔ / دشمن اسلامی-ایرانی تشخص اور تہذیب کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان، بریگیڈیئر جنرل پاسدار حسین محبی نے صوبہ قزوین کے شہر تاکستان میں امامزادہ سید علی موسوی شارینی اسفرورین کے مقدس آستانے میں منعقدہ مسلح افواج کی پہلی صوبائی "نماز کانفرنس" سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی انقلاب کے شہداء، دفاعِ مقدس اور تیسری مسلط کردہ جنگ کے شہداء، خاص طور پر امامِ شہیدِ امت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (اعلی اللہ مقامہ)، شہید سائنسدانوں اور امریکی-صہیونی کے حملوں کے دیگر شہداء کو  خراجِ تحسین و عقیدت پیش کرتے ہوئے نماز کے مقام اور انسان و معاشرے کی تعمیر میں اس کے کردار پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔

دوسری قسط:

بریگیڈیئر جنرل محبی نے کہا:

• جو انسان نماز کے ظاہر (اور ظاہری صورت) کو بھی درست طریقے سے ادا کرے اور اس کی روح کو بھی سمجھے تو اس نے نماز مکمل طور پر قائم کی ہے۔

• "نماز قائم کرنے" اور صرف "نماز پڑھنے" میں فرق ہے اور دینی تعلیمات میں "نماز قائم کرنے" پر زور دیا گیا ہے۔

• نماز قائم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان نماز کو اپنے وجود میں قائم کرے اور معاشرے میں بھی اس کے اثرات اور کرداروں کے عملی اثار معرض وجود میں آنے کے لئے ماحول سازی کرے۔

نماز انسان کو خودغرضی سے خیرخواہی تک پہنچاتی ہے

• نماز کا ایک تزویراتی کردار "انسان سازی" ہے:

• امام خمینی (رحمۃ اللہ علیہ) نے نماز کو انسان سازی کا کارخانہ قرار دیا۔

• انسان کی دو جہتیں ہیں، فطری اور طبعی: فطری جہت انسان کے الٰہی تشخص سے متعلق ہے، لیکن طبعی جہت میں، ہو سکتا ہے کہ انسان مشکلات کے سامنے بے صبری اور بے چینی کا اظہار کرے اور نعمتوں سے مستفید ہوتے وقت صرف اپنے مفادات کے بارے میں سوچ لے۔

• قرآن کریم کی آیات انسان کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے نمازیوں کو بعض منفی صفات سے مستثنیٰ قرار دیتی ہیں؛ یعنی

• نماز انسان کو خودغرضی اور صرف مادیات سے وابستگی سے گذار کر الٰہی جہت کے قریب کر سکتی ہے۔

• وہ انسان جو نماز کے بدولت اس مرحلے تک پہنچے، خیرخواہ، انسانوں کا فدا کار، اور ایثار کرنے والا، ہو گا۔

• اگر کوئی اپنے حقیقی انسانی تشخص تک پہنچنا چاہے، اور الٰہی ہامی راستے پر چلنا چاہتا ہے تو اسے نماز پر توجہ دینی چاہئے، کیونکہ نماز انسان کی اندرونی تبدیلی کی زمین ہموار کر سکتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha