25 اکتوبر 2026 - 09:58
عبرانی میڈیا کا انتباہ: اگلی جنگ اسرائیل کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی

اسرائیلی اخبار زمن اسرائیل  نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو کی کوشش اسرائیل اور عرب ممالک کو بھاری نقصان پہنچا سکتی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی اخبار ’’زمن اسرائیل‘‘ نے اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کا اگلا دور اسرائیل اور عرب ممالک کے لیے انتہائی مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے قریب آتے ہی یہ توقعات بڑھ رہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے ساتھ مل کر امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

اسی دوران خلیج فارس کے خطے میں امریکی سفارت خانوں کے غیر ضروری عملے کو واپس گھروں کو بھیج دیا گیا ہے، جبکہ اسرائیل نے اپنی فضائیہ کے طیارے ایران کی سرحدوں کی جانب روانہ کیے ہیں۔ مضمون نگار نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا یہ اقدامات اس امید پر کیے جا رہے ہیں کہ کوئی فریق ردعمل دے اور جنگ شروع کرنے کا بہانہ مل جائے۔

مضمون کے مطابق، گزشتہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل میں سے کسی کو بھی واضح طور پر معلوم نہیں تھا کہ جنگ کے اصل مقاصد کیا ہیں۔ تاہم اب نیتن یاہو کھل کر ایران کے نظام کو گرانے کی بات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب ان کا دعویٰ ہے کہ پہلی جنگ میں ایران کے خلاف ’’90 فیصد اہداف‘‘ حاصل کرلیے گئے تھے۔

مضمون نگار سوال اٹھاتا ہے کہ اگر اسرائیلی رہنماؤں کے دعووں کے باوجود ایران میں جوہری ہتھیاروں کا مسئلہ برقرار ہے، بیلسٹک میزائلوں کے ذخائر بھی موجود ہیں اور ایرانی نظام بھی قائم ہے، تو پھر وہ کون سے اہداف تھے جن میں سے 90 فیصد حاصل کرلیے گئے؟

مضمون میں کہا گیا ہے کہ کوئی اس سوال کو نہیں اٹھاتا اور اگر کوئی ایسا کرنے کی جرأت کرے بھی تو اسے جواب نہیں ملتا۔

مضمون نگار نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف نئی جنگ اسرائیل اور عرب ممالک، دونوں کے لیے بھاری قیمت کا باعث بن سکتی ہے۔

اس ضمن میں خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کے مطابق ایران اور اس کے اتحادیوں کے درست نشانے پر کیے گئے حملوں میں خلیج فارس کے خطے میں بنیادی ڈھانچے کے کم از کم 84 اہداف کو مجموعی طور پر 135 مرتبہ نشانہ بنایا گیا اور جنگ کے دوران اہم تنصیبات کو منظم انداز میں ناکارہ بنایا گیا۔

رائٹرز کی رپورٹ کے حوالے سے مضمون میں کہا گیا ہے کہ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز نے خطے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس سے سپلائی چین متاثر ہوئی۔ خلیجی ممالک ان خلل اور نقصانات کو اکثر منظرِ عام پر نہیں لاتے تھے۔

مضمون کے مطابق، اگرچہ سرکاری بیانات میں بارہا نقصانات کو بحرانوں کا نتیجہ قرار دیا گیا، تاہم رائٹرز کی تحقیق سے ظاہر ہوا کہ بار بار انہی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا جو خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی تھیں۔

مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ نے جنگ کے دوران اپنے نقصانات اور نشانہ بنائے گئے مقامات سے متعلق بہت سی معلومات چھپائیں۔ جنگ کے اصل مقاصد سے لے کر ہلاک ہونے والے فوجیوں کی تعداد تک، متعدد تفصیلات ذرائع ابلاغ تک نہیں پہنچنے دی گئیں۔

مضمون نگار کے مطابق، ایران میں ناکامی سمجھے جانے والے نتائج کے بعد ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ وہ اپنے نقصانات پورے کرنے کی کوشش میں ایک ایسے جواری کی طرح دوبارہ خطرہ مول لے سکتے ہیں جو اپنے پرانے نقصانات کی تلافی کے لیے ایک بار پھر داؤ لگاتا ہے اور شاید منافع حاصل کرنے کی بھی امید رکھتا ہے۔

مضمون کے اختتام پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا امریکہ اور اسرائیل اس مرتبہ اسلامی جمہوریہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ تیار ہیں، جبکہ گزشتہ جنگ میں ان کے تمام منصوبے ناکام ہوگئے تھے؟ یا دونوں رہنما اب بھی جنگ کو ایک ایسے کھیل کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس کی قیمت دوسروں کو اپنی جانوں کے نذرانے سے ادا کرنا پڑے گی؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha