اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، آج صنعاء کے علاقے عصر میں ایک گھر اور صوبہ صنعاء کے ضلع ہمدان میں سیمنٹ فیکٹری پر سعودی عرب کے فضائی حملوں کے نتیجے میں متعدد یمنی شہری شہید یا زخمی ہوگئے۔ اسی دوران یمن کے صوبہ الجوف میں آب رسانی و نکاسی آب کے ادارے کے سربراہ نے الحزم شہر میں اس ادارے کی مکمل تباہی کی اطلاع دی۔
المسیرہ ٹی وی کے مطابق، سعودی جنگی طیاروں نے صنعاء کے علاقے عصر میں ایک گھر کو نشانہ بنایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 3 یمنی شہری شہید جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوئے۔
المسیرہ نے مزید بتایا کہ صوبہ صنعاء کے ضلع ہمدان میں ایک سیمنٹ فیکٹری پر بھی حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے۔
دریں اثنا، صوبہ الجوف کے آب رسانی و نکاسی آب کے ادارے کے سربراہ منصور القاسمی نے بتایا کہ سعودی عرب کے فضائی حملے میں الحزم شہر میں واقع ادارے کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی، جس کے باعث آب رسانی کی خدمات مکمل طور پر معطل اور شہریوں کے لیے پانی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔
القاسمی نے المسیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ حملے سے ادارے کی عمارت، شمسی توانائی کا نظام، پانی کے ذخائر، کیبلز اور آب رسانی کا نیٹ ورک بھی تباہ ہوگیا۔
ان کے مطابق اس تباہی کے نتیجے میں تقریباً 50 ہزار یا اس سے زائد افراد پانی کی سہولت سے محروم ہوگئے ہیں۔ شہریوں کو انتہائی مہنگے داموں پانی خریدنے یا غیر محفوظ ذرائع سے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے، جس سے ان کی صحت کو خطرات لاحق ہیں اور مختلف بیماریوں اور وباؤں کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
القاسمی نے مزید کہا کہ ادارے کے تمام ملازمین، اعلیٰ عہدیداروں سے لے کر محافظوں تک، صورتحال کا جائزہ لینے اور عوام کو درپیش مشکلات کا براہِ راست مشاہدہ کرنے کے لیے متاثرہ مقام پر پہنچے ہیں تاکہ پانی کی فراہمی میں تعطل کے اثرات کم کرنے کے لیے فوری حل تلاش کیے جاسکیں۔
صوبہ الجوف کے آب رسانی و نکاسی آب کے ادارے کے سربراہ نے کہا کہ شہری اور عوامی خدمات کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے یمنی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہورہا ہے اور ان کی بنیادی ضروریاتِ زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صوبہ الجوف اس سے قبل بھی مقامی حکومتی عمارتوں، زرعی تنصیبات، بجلی، آب رسانی اور صحت کے مراکز سمیت دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے جانے اور تباہ کیے جانے کا مشاہدہ کرچکا ہے۔
القاسمی نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ متبادل اور ہنگامی پانی کی فراہمی کے وسائل فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آب رسانی کے ادارے کی تباہی یمن کے عوام کو اپنی مزاحمت جاری رکھنے سے نہیں روک سکتی، تاہم انہوں نے صوبہ الجوف کے شہریوں کی مشکلات کم کرنے اور انہیں پانی تک رسائی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
آپ کا تبصرہ