اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عرب اور غیر عرب ممالک کی جانب سے یمن میں فوجیں بھیجے جانے کے حوالے سے ہونے والے وسیع میڈیا شور کے باوجود زمینی صورتِ حال میں کوئی نمایاں تبدیلی دکھائی نہیں دیتی۔ حتیٰ کہ مصر جیسے تاریخی اور علامتی حیثیت رکھنے والے ملک کی افواج کی ممکنہ تعیناتی بھی اس امر کو تبدیل نہیں کرتی کہ فوج بھیجنے والے ممالک باضابطہ طور پر بڑے پیمانے پر یمن کے اندر جنگ میں شامل ہونے سے گریزاں ہیں۔
لبنانی اخبار الاخبار کے مطابق، دوسری جانب یمن بھی سعودی عرب کو اسی وقت نشانہ بنانے کی پالیسی پر قائم ہے جب سعودی حملوں اور محاصرے کے جواب میں کارروائی ضروری ہو، تاکہ ریاض پر جنگ اور محاصرہ بیک وقت ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔
موجودہ صورتِ حال میں یمن کے خلاف جنگ کے خاتمے کا انحصار سعودی عرب کی اس صلاحیت پر ہے کہ وہ دباؤ برداشت کرتے ہوئے اس تعطل سے کیسے نکلتا ہے جس میں وہ امریکہ کی ایران کے خلاف وسیع تر جنگ کے تناظر میں پھنس گیا ہے۔
سعودی عرب اب تک اپنے اتحادی ممالک کو، خواہ وہ ترکیہ اور پاکستان سمیت رسمی اتحادوں کا حصہ ہوں یا مصر جیسے غیر رسمی شراکت دار، یمن کے اندر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کے لیے تیار نہیں کرسکا۔
رپورٹ کے مطابق، ریاض محض مالی وسائل کے ذریعے ایسی فوجی شرکت حاصل نہیں کرسکتا جو علامتی نوعیت سے آگے بڑھ کر میدانِ جنگ کا توازن تبدیل کرسکے۔ دوسرے ممالک کی افواج کو یمن میں بڑے پیمانے پر استعمال کرنے کے لیے وسیع وسائل درکار ہوں گے، جبکہ خود اتحادی ممالک کے لیے بھی ایسی فوجی شرکت کا جواز پیش کرنا آسان نہیں ہوگا۔
یہاں تک کہ سعودی عرب نے بھی اپنی فوج کو یمن کے اندر براہِ راست جنگ کے لیے نہیں بھیجا۔ رپورٹ میں اس کی ایک وجہ سعودی فوج کی یمن کے اندر جنگ لڑنے کی صلاحیت سے متعلق سوالات کو قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اگر ترکیہ، پاکستان اور دیگر ممالک اپنی داخلی ملاحظات اور پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے بڑی تعداد میں فوجی یمن بھیج بھی دیں، تب بھی ضروری نہیں کہ وہ میدانِ جنگ کا توازن تبدیل کرسکیں۔
ترکیہ یمن میں وہی کردار ادا نہیں کرسکتا جو اس نے شام اور عراق میں کرد مسلح گروہوں کے خلاف ادا کیا ہے، کیونکہ وہاں اس کی کارروائیاں اس کے اپنے قومی سلامتی کے خدشات سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔
اسی طرح پاکستان کے لیے یمن میں وہ طرزِ جنگ اختیار کرنا آسان نہیں جو وہ کشمیر کے حوالے سے اپنی سرحدی صورتِ حال میں اختیار کرتا ہے، کیونکہ کشمیر کا معاملہ پاکستان کی اپنی علاقائی سلامتی اور سرحدی تنازع سے براہِ راست متعلق ہے۔
اس کے باوجود سعودی عرب ان ممالک کو جنگ میں شامل کرنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔ رپورٹ کے مطابق، صعدہ، حجہ اور الجوف جیسے سرحدی علاقوں میں یمنی مسلح افواج کے ساتھ ایک نیا محاذ کھولنے کی سعودی کوششوں کا مقصد انہیں سعودی سرحد کے ساتھ جیزان اور نجران میں موجود اتحادی فورسز کے ساتھ براہِ راست لڑائی میں الجھانا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے جنگ اسی انداز میں آگے بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں یمنی مسلح افواج کو شمالی یمن کے سابق علاقوں میں اپنی پیش قدمی جاری رکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
اسی تناظر میں تعز شہر کی لڑائی بھی اہم ہے۔ یمنی مسلح افواج اس وقت تعز میں کارروائی آگے بڑھا رہی ہیں اور شہر کے بعض اندرونی علاقوں میں داخل ہونے کے ساتھ اس کا محاصرہ بھی جاری ہے۔
اس صورتِ حال نے اخوانی جماعت ’’اصلاح‘‘ کو عمان سے ثالثی کی درخواست کرنے پر آمادہ کیا ہے تاکہ تعز شہر کے انتظام کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچا جاسکے۔ جماعت نے اپنے ایک وفد کو بھی عمان کے دارالحکومت مسقط میں یمنی حکومت کے مذاکراتی وفد سے ملاقات کے لیے بھیجا ہے۔
دوسری جانب رپورٹ کے مطابق یمنی مسلح افواج جنگ کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کی جانب سے شکست تسلیم کیے جانے کی خواہاں ہیں۔ تاہم وہ فوجی طور پر سعودی عرب کے خلاف جنگ کو مکمل طور پر فیصلہ کن انجام تک پہنچانے یا ریاض کے زیرِ کنٹرول جنوبی اور مشرقی صوبوں میں داخل ہونے کی پوزیشن میں نہیں۔
ان علاقوں میں جنوبی یمن کی آزادی کے خواہاں علیحدگی پسند گروہ بھی موجود ہیں، اس لیے موجودہ حالات میں جنوبی یمن کے معاملے کو فوجی یا سیاسی طور پر چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔
یمنی حکومت اس صورتِ حال سے آگاہ ہے، اسی لیے اس نے اپنے مطالبات کو جنگ بندی اور محاصرہ ختم کرنے تک محدود رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایسے مطالبات ہیں جو ریاض کے لیے بھی نسبتاً قابلِ قبول راستہ فراہم کرسکتے ہیں، کیونکہ ان میں یمنی عوام کے بنیادی حقوق کی بحالی شامل ہے۔
تاہم یمنی حکومت اس حکمت عملی سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں جسے وہ اپنے مطالبات منوانے کا واحد ذریعہ سمجھتی ہے، یعنی سعودی عرب کے اندر، آبنائے باب المندب اور سعودی کنٹرول والے یمنی صوبوں میں فوجی و معاشی دباؤ برقرار رکھنا۔
دوسری جانب سعودی عرب ایک ایسے تعطل میں پھنس چکا ہے جس سے نکلنا اس کے لیے آسان نہیں۔ رپورٹ کے مطابق ریاض کے لیے اس صورتِ حال سے نکلنے کا ایک راستہ وہی ہوگا جسے وہ یمن میں ایک بار پھر بڑی سیاسی اور عسکری ناکامی کے طور پر دیکھ سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے متعدد اتحادیوں اور فوجی قوتوں کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ