22 اکتوبر 2026 - 17:03
یمن نے سعودی عرب کو کئی محاذوں پر الجھا دیا؛ مکلا اور عدن سے جیزان اور عسیر تک کارروائیاں تیز

یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ دنوں یمن کے جنوب و مشرق میں سعودی عرب کی فوجی موجودگی اور سعودی سرحدی علاقوں جیزان و عسیر میں اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ ان کارروائیوں میں سعودی فوجی سازوسامان کی منتقلی، فوجی اڈوں اور سعودی فوجیوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے اخبار الاخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ یمن کی مسلح افواج کی حالیہ کارروائیوں کا مقصد سعودی عرب کو یہ پیغام دینا ہے کہ شمالی یمن کے ساتھ سرحدی محاذ کو بھڑکانے کی کوشش کے نتیجے میں ایک وسیع جنگ شروع ہو سکتی ہے، جسے روکنا سعودی عرب کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ دو روز کے دوران یمن کے جنوبی اور مشرقی علاقوں میں سعودی عرب کی فوجی موجودگی کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ بڑھایا اور سعودی عرب کے جنوبی علاقوں جیزان سے عسیر تک حملے کیے۔

یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحییٰ سریع نے بتایا کہ سعودی فوجی مال بردار طیاروں کی حضرموت صوبے کے دارالحکومت مکلا کے مشرق میں واقع شہر شحر کے الریان ہوائی اڈے پر آمد کے بعد متعدد بیلسٹک میزائلوں سے کارروائی کی گئی۔ ان حملوں میں طیاروں کے ذریعے منتقل کیا جانے والا سعودی فوجی سازوسامان نشانہ بنا۔

گزشتہ دنوں یمن کی مسلح افواج کی کارروائیاں زیادہ تر یمن کے مختلف صوبوں میں سعودی عرب سے وابستہ فورسز کے اجتماع اور نقل و حرکت پر مرکوز تھیں، تاہم حالیہ حملوں کا دائرہ سعودی عرب کے جنوبی علاقوں عسیر اور جیزان تک پھیل گیا ہے۔

الریان ہوائی اڈہ؛ سعودی فوجی سازوسامان کی منتقلی کا مرکز

انٹیلی جنس ذرائع نے لبنان کے اخبار الاخبار کو بتایا کہ یمن کی مسلح افواج نے الریان ہوائی اڈے کے ذریعے فضائی راستے سے اسلحے کی کھیپوں کی آمدورفت پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ ان ذرائع کے مطابق، اس ہوائی اڈے پر فوجی طیاروں کی آمدورفت 72 گھنٹے تک مسلسل جاری رہی۔

دوسری جانب، عدن حکومت سے وابستہ حضرموت کے حکام نے اس ہوائی اڈے کے فوجی استعمال کی تردید کی، تاہم انہوں نے تصدیق کی کہ حملے سے چند گھنٹے پہلے ایک سعودی طیارہ وہاں پہنچا تھا۔ انہوں نے اس طیارے کے مشن کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں دی۔

واضح رہے کہ الریان ہوائی اڈہ 2017 سے بند ہے اور اسے فوجی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہوائی اڈے کے احاطے میں ایک فوجی اڈہ بھی موجود ہے، جسے متحدہ عرب امارات نے تعمیر کیا تھا۔ گزشتہ سال کے اختتام پر سعودی افواج نے یہ اڈہ امارات سے اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور ہوائی اڈے کو اب تک شہری پروازوں کے لیے بند رکھا ہوا ہے۔

عدن کا بدر کیمپ؛ یمنی افواج کا چوتھا حملہ

اسی سلسلے میں، یمن کی مسلح افواج نے گزشتہ روز عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع بدر فوجی کیمپ کو چوتھی مرتبہ نشانہ بنایا۔

یہ حملہ کیمپ میں سعودی افواج کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت کی نگرانی کے بعد کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب نے اس مقام پر زیر زمین مضبوط فوجی آپریشن مراکز قائم کر رکھے ہیں، جہاں سے یمن کے متعدد صوبوں میں لڑائی کی نگرانی اور کارروائیوں کی قیادت کی جاتی ہے۔

بریگیڈیئر یحییٰ سریع کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے بدر کیمپ کے اندر سعودی افواج کے ایک آپریشن مرکز کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا۔

چند روز قبل بھی سعودی فوجی سازوسامان اور کمک کی بدر کیمپ آمد کے بعد یمن کی مسلح افواج نے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے اس مقام پر حملہ کیا تھا۔

شبوا کے العلم کیمپ پر حملہ؛ یمنی فورسز کو بھاری جانی نقصان

دریں اثنا، یہ انکشاف ہوا ہے کہ شبوا صوبے کے العلم کیمپ پر یمن کی مسلح افواج کا میزائل حملہ اس وقت ہوا، جب تقریباً 10 سعودی افسران پر مشتمل ایک وفد وہاں پہنچا ہوا تھا۔ اس وفد کی سربراہی شبوا میں سعودی عرب کے گورنر مصلح العتیبی کر رہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، اس حملے میں ’’لواء التوحید‘‘ نامی گروہ کے تقریباً 100 اہلکار ہلاک ہوئے۔ یہ ایک سلفی گروہ ہے جو اس علاقے میں سرگرم ہے۔

جیزان اور عسیر میں سعودی فوجیوں پر ڈرون حملے

یمن کی مسلح افواج نے اس سے ایک روز قبل سعودی عرب کے سرحدی علاقوں جیزان اور عسیر کی گہرائی میں سعودی فوجیوں کے اجتماعات کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ یہ کارروائیاں ’’رجوم‘‘ نامی خودکش ڈرونز کے ذریعے انجام دی گئیں۔

یمن کے جنگی اطلاعاتی مرکز کی جانب سے جاری کردہ تصاویر کے مطابق، ان کارروائیوں میں عسیر سے جیزان تک سرحدی علاقے میں فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں متعدد سعودی فوجی ہلاک ہوئے، کئی فوجی گاڑیاں تباہ ہوئیں اور متعدد دیگر گاڑیاں ناکارہ ہو گئیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha