21 اکتوبر 2026 - 16:18
انٹرنیٹ کیبلز کاٹنا؛ قطر کے لیے تباہ کن خواب، ایران کے لیے قابلِ برداشت دھچکا

قطر کا دعویٰ ہے کہ خلیج فارس میں زیرِ سمندر انٹرنیٹ کیبلز کو نقصان پہنچنے سے ایران سمیت تمام ممالک متاثر ہوں گے، تاہم اس تجزیے کے مطابق قطر کو اس کا تباہ کن نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، جبکہ ایران کے لیے اس کے اثرات محدود اور قابلِ انتظام رہ سکتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ اگر ملک کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا گیا تو آبنائے ہرمز میں انٹرنیٹ کیبلز اور انٹرنیٹ کی ترسیل منقطع کرنا بھی ایران کے یقینی اہداف میں شامل ہوگا۔

تاہم گزشتہ روز قطر کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ خلیج فارس میں فائبر آپٹک نیٹ ورک اور زیرِ سمندر کیبلز کو پہنچنے والا کوئی بھی نقصان ایران سمیت تمام ممالک کو متاثر کرے گا۔

اس دعوے کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ خلیج فارس کا خطہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ڈیجیٹل نظام کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کے اہم رابطہ راستوں کو نقصان پہنچنے کے نتیجے میں خطے کے تمام ممالک کو یکساں نوعیت کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اگرچہ عمومی اور نظریاتی سطح پر اس دعوے میں کسی حد تک حقیقت موجود ہے، کیونکہ سمندری مواصلاتی راستوں میں خلل پورے خطے میں ڈیٹا کی ترسیل کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن اس تجزیے میں ایک بنیادی خامی موجود ہے، اور وہ یہ کہ مختلف ممالک کے انٹرنیٹ نظام کے باہمی انحصار کی نوعیت، ساخت اور شدت کو یکساں تصور کیا گیا ہے۔

صنعتی اعداد و شمار، انٹرنیٹ کی ترسیل کے راستوں کے نقشے (بی جی پی) اور سیاسی و معاشی تجزیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر اور خلیج تعاون کونسل کے دیگر ممالک سمندری راستوں پر انتہائی زیادہ اور بنیادی نوعیت کا انحصار کرتے ہیں، جبکہ ایران کا انٹرنیٹ نظام براعظمی اور زمینی راستوں پر مشتمل ایک تقسیم شدہ نیٹ ورک کی بنیاد پر قائم ہے۔

آبنائے ہرمز میں بحران پیدا ہونے کی صورت میں قطر جیسے ممالک کو بنیادی مواصلاتی ڈھانچے کے انہدام اور اپنے وجود کے لیے سنگین خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جبکہ ایران کے لیے اس کے اثرات ایک ایسے نیٹ ورک کی خرابی تک محدود رہ سکتے ہیں جسے قابو میں رکھنا اور جس کے اثرات کو برداشت کرنا ممکن ہو۔

 عالمی انٹرنیٹ کا ڈھانچہ اور ڈیجیٹل رابطوں کے اہم مقامات کی تشکیل

خطے کے ممالک کو لاحق خطرات کی گہرائی سمجھنے کے لیے سب سے پہلے عالمی سطح پر ڈیٹا کی ترسیل کے طریقۂ کار کو سمجھنا ضروری ہے۔ عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ انٹرنیٹ ایک بے تار یا مصنوعی سیاروں پر مبنی نظام ہے، لیکن حقیقت میں عالمی مواصلات، معیشت اور انٹرنیٹ کی بنیادی ریڑھ کی ہڈی سمندر کی تہہ میں بچھائی گئی کیبلز پر قائم ہے۔

ڈیجیٹل معیشت کی پوشیدہ شاہراہیں

دنیا بھر میں انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ڈیٹا کی مجموعی ترسیل کا 95 سے 99 فیصد سے زیادہ حصہ سمندر کی تہہ میں بچھائے گئے تقریباً 500 کیبل نظاموں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔

یہ فائبر آپٹک کیبلز سمندر کی گہرائی میں تقریباً 17 سے 21 ملی میٹر موٹی ہوتی ہیں، جبکہ ساحل کے قریب کم گہرے پانیوں میں فولاد کی اضافی حفاظتی تہیں لگانے کے بعد ان کی موٹائی 40 سے 50 ملی میٹر تک پہنچ جاتی ہے۔

یہ کیبلز روزانہ 10 ٹریلین ڈالر سے زیادہ مالیت کے مالی لین دین کو ممکن بناتی ہیں۔ ان کی غیر معمولی ڈیٹا ترسیلی صلاحیت اور انتہائی کم تاخیر (لیٹنسی) کے باعث مواصلات کی دیگر ٹیکنالوجیز ان کا مکمل متبادل فراہم نہیں کر سکتیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha