اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطین مرکز برائے مطالعاتِ اسرا نے خبردار کیا ہے کہ صیہونی جیلوں میں 1500 سے زائد بیمار فلسطینی قیدی بنیادی انسانی سہولتوں سے محروم حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس مرکز کے مطابق، قیدیوں کو صحت اور رہائش کی انتہائی ابتر صورت حال کا سامنا ہے اور ان کے خلاف بتدریج موت اور دانستہ طبی غفلت کی پالیسی اپنائی جارہی ہے۔
مرکز نے زور دے کر کہا کہ اکتوبر 2023ء سے طبی غفلت کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے اور اس کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ سیکڑوں فلسطینی قیدی سرطان، گردوں کی ناکامی، دل کی بیماریوں، شریانوں کی سختی، ذیابیطس اور بلند فشارِ خون جیسی خطرناک اور دائمی بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ ان کے علاوہ بعض قیدی اعصابی بیماریوں میں بھی مبتلا ہیں، جبکہ زخمی اور معذور قیدیوں کو مناسب علاج اور بیرونی اسپتالوں میں منتقل کرنے کی سہولت سے محروم رکھا گیا ہے۔
مرکز نے نشاندہی کی کہ طبی معائنے اور تشخیصی ٹیسٹوں میں تاخیر کے باعث قیدیوں میں بیماری کی معمولی علامات بھی دائمی اور لاعلاج امراض میں تبدیل ہوجاتی ہیں۔ اس صورت حال کے ساتھ قیدیوں کو بھوکا رکھنے، غذائی قلت پیدا کرنے اور بنیادی صفائی کی سہولتوں سے محروم رکھنے کی پالیسی نے جلدی اور متعدی بیماریوں، خصوصاً خارش، کے پھیلاؤ کو بھی آسان بنادیا ہے۔
اس مرکز کے مطابق، فلسطینی قیدیوں کی شہادتوں میں سے کم از کم 50 فیصد کا بنیادی سبب طبی غفلت ہے۔ 1967ء سے اب تک اسرائیلی جیلوں میں 329 فلسطینی قیدی شہید ہوچکے ہیں۔ اکتوبر 2023ء سے اب تک 92 قیدیوں کی شہادتوں میں براہِ راست تشدد کے بعد طبی غفلت کو دوسرا بڑا سبب قرار دیا گیا ہے۔
فلسطین مرکز برائے مطالعاتِ اسرا نے بین الاقوامی طبی اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور درجنوں قیدیوں کی شہادتوں کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے طبی کمیٹیاں بھیجیں۔
اس ادارے نے زور دیا کہ قیدیوں کو جسمانی طور پر ختم کرنے کی پالیسی سے تحفظ فراہم کیا جائے، کیونکہ اس کے مطابق یہ جنگی جرم اور تشدد کے زمرے میں آتا ہے اور جنیوا کنونشنز اور تشدد کے خلاف کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صیہونی حکام 9300 سے زائد فلسطینی قیدیوں کو 23 سے زیادہ جیلوں، حراستی مراکز اور تفتیشی مراکز میں قید رکھے ہوئے ہیں۔ ان میں تقریباً 87 خواتین اور لگ بھگ 380 بچے بھی شامل ہیں۔
آپ کا تبصرہ