اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ہفتے کے روز قاہرہ کی جانب سے سعودی عرب کی حمایت میں اضافے کا ذکر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر ریاض درخواست کرے تو مصر اس کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے اس مقصد کے لیے ضروری اجازت حاصل کرنے کی خاطر مصری پارلیمنٹ سے ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست بھی کی۔
عربی اخبار العربی الجدید نے اپنی ایک تحریر میں لکھا کہ یہ پیش رفت مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی کے اس بیان کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے بھی سعودی عرب کی جانب سے کسی بھی قسم کی مدد، بشمول فوجی تعاون، کی درخواست پر قاہرہ کے آمادہ ہونے کا اعلان کیا تھا۔ مصری پارلیمنٹ نے گزشتہ روز السیسی کی درخواست پر آج اتوار کو ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔
مصر کی فوجی اکیڈمی میں تقریبِ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے السیسی نے کہا کہ مصر سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ مصر سعودی عرب کی قیادت کی ہدایات کے مطابق اس ملک کے تحفظ اور دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرنے کو تیار ہے۔
السیسی نے واضح کیا کہ وہ جانتے ہیں کہ اس نوعیت کے اقدام کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے۔ اسی لیے انہوں نے درخواست کی کہ اگر سعودی عرب مدد طلب کرے تو ضروری اجازت دینے کے لیے پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مصر خلیج فارس میں اپنے بھائیوں کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کرے گا۔ تاہم، ان کے بقول، مصر کسی پر حملہ کرنے یا کسی کے خلاف جنگ چھیڑنے کا ارادہ نہیں رکھتا، بلکہ سعودی عرب کا دفاع کرنا چاہتا ہے۔
السیسی کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب قاہرہ علاقائی سلامتی اور فوجی انتظامات میں شمولیت کے معاملے پر کچھ عرصے سے محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے تھا اور سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے سہ فریقی دفاعی معاہدے کا مسلسل جائزہ لے رہا تھا۔
اس سے پہلے مصر کا مؤقف یکجہتی کے اظہار اور مدد فراہم کرنے کی آمادگی تک محدود تھا، لیکن اب السیسی نے کھلے عام ممکنہ فوجی اقدام کا ذکر کیا ہے، اگرچہ اسے سعودی عرب کی درخواست اور قانونی مراحل کی تکمیل سے مشروط رکھا ہے۔
جنگ میں شامل ہونا ترجیح نہیں
العربی الجدید نے مزید لکھا کہ مبصرین کے مطابق اس بیان کا یہ مطلب نہیں کہ مصر نے واقعی سعودی عرب میں فوج بھیجنے یا سہ فریقی دفاعی معاہدے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر سعودی عرب پر حملوں میں شدت آتی ہے اور ریاض براہِ راست فوجی مدد طلب کرتا ہے تو قاہرہ سیاسی اور سفارتی حمایت سے آگے کے امکانات پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔
مصر کے سابق نائب وزیر خارجہ رخا احمد حسن نے کہا کہ قاہرہ نے دونوں ممالک کے درمیان طے شدہ معاہدے کے مطابق ریاض کو ضروری تعاون فراہم کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ خطرات کی نوعیت اور مخصوص ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مشاورت کے ذریعے یہ تعاون سیاسی، سفارتی اور دفاعی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو درپیش خطرات، جن میں میزائل اور بغیر پائلٹ طیارے بھی شامل ہیں، کا مقابلہ کرنا زمینی فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے سے مختلف ہے۔ ان کے مطابق، ترجیح سعودی عرب کی سرزمین اور تنصیبات کے تحفظ کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنا ہے، نہ کہ براہِ راست فوجی جنگ میں الجھنا۔
رخا احمد حسن نے سیاسی پیش رفت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مصر اور ایران کے درمیان رابطے کشیدگی کم کرنے کے طریقوں پر تبادلۂ خیال اور مشاورت کا موقع فراہم کرتے ہیں، بالخصوص ایسے وقت میں جب سعودی عرب اور یمن کے درمیان ثالثی کے امکان پر بھی بات ہو رہی ہے۔
مصر کے اس سفارت کار نے زور دیا کہ قاہرہ بحیرۂ احمر اور آبنائے باب المندب میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو ترجیح دیتا ہے، کیونکہ ان دونوں کی بین الاقوامی تجارت اور نہر سویز سے براہِ راست وابستگی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مصر کے وزیر خارجہ نے گزشتہ منگل کو بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے ریاض کو واضح پیغام دیا تھا کہ مصر ہر قسم کی مدد، بشمول فوجی تعاون، فراہم کرنے کے لیے تیار ہے اور سعودی عرب کی درخواستوں کا مثبت جواب دے گا۔
تاہم، وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا تھا کہ سہ فریقی معاہدہ ابھی زیرِ غور ہے اور علاقائی سلامتی کے مستقبل پر مشاورت کے لیے مصر، سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان پر مشتمل چار فریقی کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔
دوسری جانب، بدر عبدالعاطی نے گزشتہ منگل کو اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے سیاسی اور سفارتی حل کو ترجیح دینے پر زور دیا تھا۔
العربی الجدید نے مزید لکھا کہ اس لیے السیسی کی جانب سے سعودی عرب کو فوجی مدد فراہم کرنے کی آمادگی کا اعلان لازماً سہ فریقی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا مطلب نہیں ہے۔ کسی اتحادی ملک کی مخصوص درخواست قبول کرنا اور ایسے دفاعی اتحاد میں شامل ہونا دو الگ معاملات ہیں، جس کے تحت دوطرفہ تعلقات کی نوعیت سے آگے بڑھ کر اضافی سلامتی اور فوجی ذمہ داریاں بھی عائد ہو سکتی ہیں۔
اسی طرح پارلیمنٹ سے اجازت طلب کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ مصر کی فوجی مداخلت کا فیصلہ حتمی ہو چکا ہے۔ اگر سعودی عرب کی جانب سے درخواست موصول ہوتی ہے تو اس کی نوعیت مصر کے ردعمل کی شکل اور دائرہ کار کے تعین میں اہم کردار ادا کرے گی۔
یہ معاملہ مصر کے آئین کی دفعہ 152 کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اس دفعہ کے مطابق جنگ کے اعلان یا مسلح افواج کو ملک کی سرحدوں سے باہر کسی جنگی مشن پر بھیجنے کے لیے قومی دفاعی کونسل کی رائے کے بعد پارلیمنٹ کے دو تہائی ارکان کی منظوری ضروری ہے۔
لہٰذا، پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کو فوج بھیجنے کے حتمی فیصلے کے بجائے ایک ممکنہ ابتدائی قدم سمجھا جا سکتا ہے۔
علاقائی تنازعات کے پھیلاؤ کے خطرات کے پیش نظر یمن قاہرہ کے لیے ایک اہم امتحان بن سکتا ہے۔ بالآخر مصر کا اگلا قدم سعودی عرب کی ممکنہ درخواست کی نوعیت، مصری آئین کے تحت طے شدہ طریقۂ کار، خطے میں فوجی کشیدگی میں اضافے اور بحیرۂ احمر، آبنائے باب المندب اور قاہرہ کے اقتصادی مفادات پر اس کے اثرات پر منحصر ہوگا۔
آپ کا تبصرہ