اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کے سابق رکن پارلیمنٹ عبدالہادی السعداوی نے خبر رساں ادارے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا کوئی بھی ایسا فیصلہ جو شہریوں پر منفی اثر ڈالے گا، سیاسی جماعتوں کو بھی نقصان پہنچائے گا۔ ایسی صورت میں سیاسی جماعتیں ان فیصلوں کی مخالفت کریں گی اور حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش کرنے کی جانب بڑھ سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عراق اور ایران کے درمیان 1400 کلومیٹر طویل مشترکہ سرحد ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی اور سماجی تعلقات وسیع پیمانے پر قائم ہیں۔ اس کے علاوہ تعلیم اور علاج کے لیے بھی دونوں ممالک کے شہریوں کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔ ان حالات میں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ کے ایسے کسی حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرے جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات منقطع کرنا ہو۔
السعداوی نے مزید کہا کہ عراق کا نظام پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کے ذریعے چلتا ہے اور ان جماعتوں کے مفادات شہریوں کے مفادات سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے وہ حکومتی فیصلوں کی مخالفت کریں گی اور یہ صورت حال حکومت کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد تک پہنچ سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عراق کو کسی بھی بیرونی دباؤ یا حکم سے آزاد ہو کر اپنے فیصلے خود کرنے چاہییں، خصوصاً اس لیے کہ عراق اور ایران کے درمیان مشترکہ مفادات کے وسیع روابط موجود ہیں۔ کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عراق کو دوسرے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات تبدیل کرنے سے روکے۔
آپ کا تبصرہ