اہلِ بیتؑ نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران یمن کے معاملے پر اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے اور سعودی عرب و یمن کے درمیان مسائل کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔
بقائی نے کہا کہ ایران ہمیشہ سے تنازعات کے خاتمے میں مدد کے لیے تیار رہا ہے اور اگر دونوں فریق درخواست کریں تو اس مقصد کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے آمادہ ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گزشتہ 12 برس کے واقعات نے ثابت کیا ہے کہ بیرونی مداخلت، فوجی راستہ اختیار کرنا اور محاصرہ یمن کے مسئلے کا حل نہیں ہیں۔
ان کے مطابق، یمنی عوام ایک دہائی سے زائد عرصے سے بحری اور فضائی محاصرے کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اس کے نتائج برداشت کر رہے ہیں۔ بقائی نے اس صورتِ حال کی ذمہ داری خطے سے باہر کی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور برطانیہ، پر عائد کی اور کہا کہ علاقائی ممالک اور عالمِ اسلام کو اس صورتِ حال کے خاتمے کے لیے کوشش کرنی چاہیے۔
بقائی نے سعودی وزارتِ خارجہ کے ایک عہدیدار کی جانب سے یمنی فورسز کو سعودی عرب پر حملوں کے لیے اکسانے میں ایران کے کردار سے متعلق الزام کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہا کہ یمن کے مسئلے کے حل کے لیے اس کی قومی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام، داخلی امور میں مداخلت کا خاتمہ اور بالخصوص بحری و فضائی محاصرہ ختم کرنا ضروری ہے۔
بقائی کے مطابق، یمنی مسلح افواج اپنے مفادات اور جائزوں کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کشیدگی میں اضافے کو کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں سمجھتا۔
آپ کا تبصرہ