اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کی سابق پارلیمنٹ کے رکن کاظم الطوکی نے خبر رساں ادارے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو جرم قرار دینا عراق کا واضح قانونی مؤقف ہے۔ اس معاملے کو دوبارہ اٹھانے کی کسی بھی کوشش میں تعلقات معمول پر لانے کی سیاسی اور عوامی مخالفت کے ساتھ ساتھ ملک میں نافذ قانون کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ پر لازم ہے کہ وہ عراق کے سیاسی اور سماجی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے ساتھ معاملات کرے اور ملک کے قانونی اداروں کے فیصلوں کا احترام کرے۔
الطوکی نے کہا کہ اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں جس کے نتائج کو نظرانداز کیا جا سکے، خصوصاً اس لیے کہ عراق کے اندر اسے وسیع مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ واشنگٹن اس معاملے کی حساسیت اور عراق کے ساتھ اپنے تعلقات پر اس کے اثرات سے آگاہ ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ امریکہ اس معاملے کو دوبارہ اٹھانے سے گریز کرے گا، کیونکہ اس سے سیاسی اور عوامی اختلافات بڑھنے کے علاوہ ملک کی سلامتی کی صورت حال پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
الطوکی نے کہا کہ ممکنہ معاشی یا سلامتی سے متعلق دباؤ بھی عراق کے لیے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کو آسان نہیں بنا سکے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس مخالفت کی جڑیں گہرے سیاسی اور عوامی تحفظات میں ہیں، لہٰذا اس معاملے سے نمٹنے کے لیے عراقی قانون، ملک کے اداروں کی مرضی اور عوامی مؤقف کا احترام ضروری ہے۔
الطوکی نے زور دے کر کہا کہ بغداد اور واشنگٹن کے تعلقات باہمی مفادات اور قومی خودمختاری کے احترام کی بنیاد پر استوار ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے متنازع معاملات کو دوبارہ اٹھانے سے گریز کیا جانا چاہیے جو عراقی قوانین اور مسئلہ فلسطین کے بارے میں ملک کے اعلان کردہ مؤقف سے متصادم ہوں۔
آپ کا تبصرہ