بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ خلیج فارس تعاون کونسل نے چند لمحے پہلے باضابطہ طور پر، سعودی دارالحکومت ریاض میں کونسل کے رکن ممالک اور یورپی یونین کے سربراہان کے مجوزہ اجلاس کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔ طے یہ تھا کہ یہ اجلاس 9 دن بعد 24 اکتوبر کو ریاض میں منعقد کیا جائے۔
خلیج فارس تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے ایک بیان میں کہا اجلاس کے التوا کا سبب یمن پر سعودی جارحیت پر یمنی افواج کی جوابی کاروائیاں ہیں۔
البدیوی نے جانبدارانہ موقف اپناتے ہوئے سعودی عرب کی طرف سے یمن کی 10 سال سے زیادہ طویل ناکہ بندی اور پابندیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے دعویٰ کیا: 'یہ فیصلہ حوثی ملیشیا کی سعودی عرب اور اس کے غیر فوجی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی مسلسل کوششوں کی وجہ سے کیا گیا ہے؛ ایسی کارروائیاں جو غیر فوجیوں کی سلامتی اور صحت کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ اس کے علاوہ، شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر سرگرمیوں کے مسلسل تعطل اور شرکت کرنے والے وفود کی حفاظت کی ضمانت کا عزم بھی اس فیصلے کی دیگر وجوہات میں سے ہیں۔'
واضح رہے کہ سعودی حملوں میں اب تک ہزاروں یمنی خواتین اور بچے شہید ہوگئے ہیں جبکہ یمنی حملے سعودی تیل کے ڈھانچوں اور فوجی مراکز پر مرکوز ہیں، اور البدیوی نے انصار اللہ اور یمنی افواج کو ایک ملیشیا کا نام دیا ہے لیکن یہ کہنے کی جرات نہیں کی ہے کہ ایک ملیشیا نے ایک 600 ارب ڈآلر کے ہتھیاروں سے لیس فوج کو کیسے مفلوج کرکے رکھ دیا ہے!
یورپی یونین نے بھی آج جمعرات کے روز مذکورہ اجلاس کے التوا کی خبر دی ہے۔
اس سے پہلے، رویٹرز نیوز ایجنسی نے دو ذرائع کے حوالے سے لکھا تھا کہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں اور یورپی یونین نے اس التوا پر پر اتفاق کیا ہے۔
قبل ازیں بلغاریہ کے وزیراعظم رومن رادیف نے عندہ دیا تھا کہ مذکورہ اجلاس کو سلامتی کے خدشات کی وجہ سے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
اس اجلاس کے التوا کا اعلان ایسے موقع پر ہؤا ہے کہ سیکورٹی کی فراہمی میں آل سعود کی ناکامی کھیلوں سمیت دیگر سرگرمیوں اور تقریبات کو بھی متاثر کیا ہے۔
سعودی پیشہ ور فٹبال لیگ نے لاجسٹک وجوہات کی بنا پر مقابلوں کے نویں ہفتے کے تین میچ ملتوی کر دیئے ہیں۔
ادھر اے ایف سی میں بھی، سعودی عرب میں ایشیا چیمپیئنز لیگ کے میچز کی منسوخی کی تجویز زیر غور ہے۔
اسی دوران، 'فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو' فورم کے منتظمین کے اجلاس کے انعقاد کے طریق کار میں بھی ـ جو 26 سے 29 اکتوبر تک ریاض میں ہونے والا تھا، ـ تبدیلیاں لائی گئی ہیں اور اس اجلاس کی منسوخی بھی ممکن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ