اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تحریک انصار اللہ یمن کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے کہا ہے کہ یمن میں امن کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ سعودی حکومت اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ یمن پر جارحیت ناکام ہوچکی ہے اور وہ یمنی عوام کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کرسکتی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار امن عوام کے حقوق پامال کرکے حاصل نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اسے ایسی عارضی جنگ بندی میں تبدیل ہونا چاہیے جس کے بعد حالات اور طاقت کے توازن میں تبدیلی کے ساتھ دوبارہ جارحیت کا راستہ کھل جائے۔
محمد الفرح نے کہا کہ یمنی عوام طویل عرصے سے امن کے قیام، جارحیت کے خاتمے اور محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے آرہے ہیں، لیکن ان مطالبات کا مناسب جواب نہیں دیا گیا۔
ان کے مطابق، اس صورت حال نے یمنی عوام کے ذہنوں میں معاہدوں اور مفاہمت کے عمل کے بارے میں سوچ بدل دی ہے۔ اب بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ جارح فریق کو یمنی عوام پر ڈھائے گئے مظالم کی سنگینی کا احساس ہونا چاہیے اور اسے اس حقیقت تک پہنچنا چاہیے کہ طاقت کے استعمال سے اپنے مقاصد حاصل کرنا ممکن نہیں۔
انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن نے واضح کیا کہ یمن کی جانب سے بار بار امن کی اپیلیں کمزوری یا پسپائی کی علامت نہیں تھیں بلکہ ان کا مقصد بے نتیجہ جارحیت روکنا اور عوام کی مشکلات کا خاتمہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسا امن، جس کی بنیاد جارحیت کے اسباب اور نتائج پر حقیقی نظرثانی نہ ہو، بدستور ناکامی کے خطرے سے دوچار رہے گا۔ بالخصوص اس وقت جب دوسرا فریق جنگ بندی کو اپنی قوت دوبارہ جمع کرنے، فوجی صف بندی بہتر بنانے اور مستقبل میں کشیدگی بحال کرنے کا عارضی موقع سمجھے۔
محمد الفرح نے مزید کہا کہ اگر جارحیت کا خاتمہ ابتدائی مرحلے میں ہی ہوجائے، لیکن سعودی فریق اس حقیقت کو دل سے تسلیم نہ کرے کہ فوجی طاقت کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کا راستہ ناکام ہوچکا ہے، تو وہ جنگ بندی کو عارضی حالات کا نتیجہ قرار دے سکتا ہے۔
ان کے مطابق، سعودی عرب اس صورت میں اپنی اس ناکامی کو تسلیم کرنے کے بجائے کہ وہ یمن کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کرسکا اور اسے اپنے فیصلوں میں خودمختار ہونے سے نہیں روک سکا، جنگ کے رکنے کو خطے اور عالمی سطح پر پیدا ہونے والے عارضی حالات سے جوڑ سکتا ہے، مثلاً امریکا اور خلیجی ممالک کی دیگر بحرانوں میں مصروفیت۔
آپ کا تبصرہ