اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنان کے مفتی جعفری شیخ احمد قبلان نے نماز جمعہ کے خطبے میں خطے میں بڑھتی کشیدگی پر خبردار کرتے ہوئے عرب اور اسلامی ممالک سے ’’امریکی، صیہونی اور یورپی سازش‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے تعاون کی اپیل کی اور مشترکہ علاقائی سلامتی کا نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
قبلان نے سعودی عرب، ایران، ترکی، پاکستان، عراق، مصر، یمن، شام اور لبنان کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو وسیع پیمانے پر جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے اور خطے کی اقوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کے بحرانوں کا حل جنگ کو پھیلانے اور اسلامی ممالک کے درمیان تعلقات منقطع کرنے میں نہیں بلکہ جنگ بندی اور مذاکرات میں ہے۔
لبنان کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے قبلان نے کہا کہ اس ملک کی مزاحمت اسرائیلی منصوبوں کا مقابلہ کرنے والے اہم عوامل میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کو اختلاف اور محاذ آرائی کے بجائے باہمی تعاون، حقیقی خودمختاری اور قبضے کے پھیلاؤ کو روکنے پر توجہ دینی چاہیے۔
قبلان نے اپنے خطاب کے ایک اور حصے میں لبنان کی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو قومی نجات کی صلاحیت رکھتی ہو، نہ کہ ملک کو تباہی کی طرف لے جائے۔
انہوں نے اقتصادی، معاشی اور سماجی مسائل، مالی و انتظامی امور میں کمزوری، بدعنوانی اور عوام کی بنیادی ضروریات سے غفلت کو لبنان کے اہم چیلنجز قرار دیا اور حکام، بالخصوص صدرِ مملکت سے اس صورت حال کے بارے میں واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا۔
قبلان نے آخر میں زور دیا کہ لبنان ایک حساس مرحلے سے گزر رہا ہے اور حکام کو قومی مفادات، ملک کی خودمختاری اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا: لبنان کو ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو قومی نجات کی صلاحیت رکھتی ہو، قومی خودکشی کی نہیں، کیونکہ بحران کی آگ نے ملک کو ہر طرف سے گھیر رکھا ہے اور لبنان کو اس بحران کے سامنے تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔
آپ کا تبصرہ