اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بھارتی حکومت کے مخالفین نے الزام عائد کیا ہے کہ انتخابی فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد نام حذف کیے جانے کے ذریعے لاکھوں بھارتی مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
انگریزی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، بڑے پیمانے پر انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے تحت کیے جانے والے اس اقدام پر شدید احتجاج سامنے آیا ہے۔ مخالفین نے الیکشن کمیشن پر اقلیتوں کو نشانہ بنانے اور حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے انتخابی امکانات بہتر بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم بھارتی حکومت اور الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
13 کروڑ سے زائد نام حذف
اخبار نے بھارتی حکومت کے مخالفین کے حوالے سے بتایا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے نتیجے میں لاکھوں شہریوں، بالخصوص مسلمانوں کے نام ووٹر ریکارڈ سے خارج کیے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، بھارت کے ووٹروں سے اپنے ووٹ کے حق کو ثابت کرنے کے لیے دستاویزات پیش کرنے کو کہا گیا، جس کے بعد 13 کروڑ سے زائد نام فہرستوں سے حذف کیے گئے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل کا مقصد فوت شدہ افراد، ایک سے زائد مرتبہ درج ناموں اور ووٹ دینے کے اہل نہ ہونے والے افراد کے نام فہرستوں سے خارج کرنا ہے۔
احتجاج اور گرفتاریاں
منگل کے روز بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ایک احتجاجی مظاہرہ ہوا، جس میں بھارتی کانگریس کے رہنما راہول گاندھی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے سیکڑوں نمائندوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار سے استعفے، انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا عمل روکنے اور کاغذی بیلٹ کے استعمال کی بحالی کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بھارتی پولیس نے کارروائی کی اور راہول گاندھی اور ان کی بہن پریانکا گاندھی وادرا کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لے لیا۔ بھارتی پولیس نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد نظم و ضبط برقرار رکھنا اور کشیدگی کو بڑھنے سے روکنا تھا۔
یہ احتجاج ممبئی اور نئی دہلی میں ہونے والے ان مظاہروں کے بعد سامنے آیا ہے جو نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی ایک تحریک کے تحت منعقد کیے گئے تھے۔ مظاہرین نے ان احتجاجی اجتماعات میں بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ کے استعفے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ یہ تحریک 10 اکتوبر سے ملک گیر مہم میں تبدیل ہو جائے گی۔
بھارتی مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا الزام
مودی حکومت کے مخالفین کا دعویٰ ہے کہ ’’وسیع خصوصی نظرثانی‘‘ کے نام سے جاری یہ عمل بھارتی مسلمانوں کو غیر متناسب طور پر متاثر کر رہا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 20 کروڑ بتائی جاتی ہے اور حکومت کے مخالفین کا کہنا ہے کہ دیگر گروہوں کے مقابلے میں مسلمانوں میں حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دینے کا رجحان کم ہے۔
یہ عمل جون 2025 میں ریاست بہار سے شروع ہوا اور بعد میں بھارت کے دیگر علاقوں تک پھیل گیا۔
ٹیلی گراف کے مطابق، دستاویزات میں درج معلومات میں اختلاف کے باعث بھارت میں کروڑوں افراد کے نام ووٹر فہرستوں سے خارج ہونے کا خطرہ ہے۔ ہزاروں مزدوروں کو مطلوبہ دستاویزات پیش کرنے کے لیے اپنے آبائی یا سرکاری ریکارڈ میں درج علاقوں تک سیکڑوں کلومیٹر کا سفر بھی کرنا پڑا ہے۔
معاملہ عدالت تک پہنچ گیا
اس عمل کے نتیجے میں قانونی تنازع بھی پیدا ہوگیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مودی حکومت، الیکشن کمیشن اور گیانیش کمار کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک مقدمے کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے، جس میں الیکشن کمیشن کے سربراہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے کمیشن کے دیگر ارکان کی منظوری کے بغیر اہم فیصلے کیے۔
عدالت نے اس معاملے پر واضح اور شفاف جواب طلب کیا ہے۔
ووٹ کے حق کے بارے میں تشویش
بھارت کے سابق جج روہنٹن نریمان نے ٹیلی گراف سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جمہوریت کی بنیاد یعنی ووٹ کا حق سنگین خطرے سے دوچار ہے۔
تاہم بھارتی حکومت، بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن نے حکمراں جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے انتخابی فہرستوں میں ردوبدل کے حوالے سے مخالفین کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
یوں بھارت میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا معاملہ بیک وقت سیاسی، قانونی اور سماجی تنازع بن گیا ہے۔ ایک جانب بھارتی حکومت اسے ووٹر فہرستوں کی صفائی اور تازہ کاری کے لیے ضروری اقدام قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری جانب مخالفین شہریوں، بالخصوص مسلمانوں کے نام بڑے پیمانے پر خارج کیے جانے اور ان کے سیاسی حق سے محرومی کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ