7 اکتوبر 2026 - 23:02
طوفان الاقصیٰ کی تیسری سالگرہ؛ طوفان کا لمحہ - 2

جس دن طوفان الاقصیٰ آپریشن کا ڈھول بجایا گیا، صہیونی رجیم کے استکباری جسم پر ایک ایسا زخم لگا جسے شہید رہبر نے ناقابلِ ترمیم قرار دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || "ہم طوفان الاقصیٰ آپریشن کے آغاز کا اعلان کرتے ہیں۔" یہ شہید محمد ضیف، القسام بریگیڈز کے کمانڈر ان چیف کی بہادر آواز تھی جو 7 اکتوبر 2023 کو طلوعِ آفتاب سے کچھ گھنٹے پہلے غزہ میں گونج اٹھی۔

دوسری قسط:

ایک آواز جو ایک قوم کے گلے سے اٹھی

لیکن شہید ضیف کی وہ آواز اور اُس کی وجوہات کو صرف اُنہی دنوں بی محدود نہیں کیا جا سکتا۔ وہ غیظ و غضب سے بھری آواز صہیونیوں کی جارحیت، قبضے اور غصب سے پیدا ہونے والے برسوں کے دکھوں کی آواز تھی جو مظلوم فلسطینی قوم کے گلے سے سنائی دے رہی تھی۔ جیسا کہ رہبرِ شہیدِ انقلاب نے آپریشن کے تین دن بعد طوفان الاقصیٰ کی وجہ اس طرح بیان فرمائی:

"یہ مصیبت صہیونیوں کے اپنے عمل نے اُن کے سر ڈھائی ہے۔ جب ظلم اور جرم حد سے بڑھ جاتا ہے، جب درندہ خوئی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، تو طوفان کا انتظار کرنا چاہئے۔ تم نے فلسطینی قوم کے ساتھ کیا کیا؟" (خطاب بمورخہ 10 اکتوبر 2023ع‍)

یعنی یہ کہ اس سوال کا جواب 105 سالہ قبضے میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔ جسے حماس تحریک نے اپنی سرکاری دستاویز میں "ہمارا بیانیہ" کا نام دیا، وہ بالکل یہی ہے:

"فلسطینی قوم کی قبضے اور استعمار کے خلاف جنگ 7 اکتوبر 2023ع‍ کو شروع نہیں ہوئی، بلکہ اس سے پہلے اور 105 سالہ قبضے کے دوران شروع ہوئی؛ 30 سال برطانوی استعمار کے تحت اور 75 سال صہیونی رجیم کے قبضے کے تحت۔"

یوم النکبہ فلسطینیوں کے لئے کوئی تاریخی واقعہ نہیں ہے؛ یہ ایک زندہ عمل (Live procedure) ہے جو ہر روز اور ہر لمحہ اُن کا گلا گھونٹتا آیا ہے تاکہ ایک قوم کے بتدریج نسلی صفایا (Ethnic cleansing) کو یقینی بنا دے۔ شاید بہتر ہو کہ اسے "مسلسل نکبہ" کہیں۔

سنہ 1948ع‍ کو اس نکبت و مصیبت کی بنیاد رکھی گئی؛ تب سے آج تک صہیونی رجیم کی حکمت عملی تین ستونوں پر قائم رہی:

1۔ جغرافیہ

2۔ آبادی اور

3۔ وسائل۔

یعنی انہوں نے اپنا کام زمینوں پر قبضے سے شروع کیا، پھر آبادی کو محدود کرنے پر مرکوز ہوئی اور آخر میں زندگی کے وسائل تک رسائی منقطع کر دی۔

صہیونیوں کے طے کردہ مذکورہ مراحل در حقیقت 75 سالہ جرائم کی ایک زنجیر کو تشکیل دیتے ہیں: گھروں اور جائیدادوں کی تباہی، لامتناہی بستیاں، طویل اور فرسودہ کرنے والی جنگیں اور طویل محاصرے، انتظامی حراستیں اور مسجد الاقصیٰ پر بار بار حملے، مقدسات کی توہین، نسل کشی کے لئے غیر روایتی ہتھیاروں کا استعمال، شخصیات کا قتل، اہم بنیادی ڈھانچے کے خلاف جرائم، جن کا ـ فلسطینی قوم کو "ایسا وجود بنانے کے جس کا کوئی حق نہیں" ہے۔

پاگل کتوں کے جرائم

رہبرِ شہیدِ انقلاب نے اسی تقریر کے تسلسل میں اس "مسلسل ہونے" کی درست تصویر کشی کی ہے اور فرمایا ہے:

"اس ظالم حکومت کا رویہ ایسا رہا کہ اس نے عورت اور مرد پر رحم نہ کیا، فلسطینی بچے اور بزرگ پر رحم نہ کیا، مسجد الاقصیٰ کی حرمت و تقدس کا پاس نہیں رکھا، آبادکاروں کی بستیوں کے باشندوں کو پاگل کتوں کی طرح فلسطینیوں پر چھوڑ دیا ہے، نمازیوں کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے؛ تو اس سارے ظلم اور جرم کے سامنے ایک قوم کرے تو کیا کرے؟ ایک غیرت مند قوم، ایک قدیم تاریخی قوم ـ فلسطینی قوم آج اور کل کی قوم نہیں، ہزاروں سال پرانی قوم ہے ـ اس سارے ظلم کے سامنے کیا ردِ عمل ظاہر کرے؟ ظاہر ہے کہ وہ طوفان بپا کر دیتی ہے۔" (خطاب بمورخہ 10 اکتوبر 2023ع‍)

سات اکتوبر 'طوفان الاقصیٰ' کا واقعہ کہاں سے شروع ہؤا؟ + ویڈیو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha