اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، سیسیلیا استرادا نے ترک خبر رساں ایجنسی انادولو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کرنے والے اسرائیلی آبادکاروں پر محدود پابندیاں عائد کرنا اصل مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ ان کے بقول غیر قانونی آبادکاری اور قبضہ خود بھی تشدد کی ایک شکل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کو اسرائیلی فوج کی حمایت اور تحفظ حاصل ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کی رکن نے مزید کہا کہ اسرائیلی قبضے کے فلسطینیوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر براہِ راست اثرات مرتب ہورہے ہیں، جن میں آمدورفت، تعلیم اور بنیادی سہولیات تک رسائی شامل ہے۔
استرادا نے زور دیا کہ فلسطینیوں کو صرف متاثرین کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے قبضے کے خلاف فلسطینیوں کی عدم تشدد پر مبنی مزاحمت اور ثابت قدمی کو بھی سراہا۔
ایرنا کے مطابق، اسرائیل نے امریکی حمایت سے 7 اکتوبر 2023 کو غزہ کے خلاف جنگ شروع کی تھی۔ کئی ماہ کی جنگ اور تباہی کے بعد جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا، تاہم رپورٹ کے مطابق جنگ بندی کے باوجود غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں اور حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
آپ کا تبصرہ