6 اکتوبر 2026 - 16:07
آبنائے ہرمز کھلی یا بند، اس کا فیصلہ امریکی صدر کے کھوکھلے دعوے نہیں کرتے: ایرانی پارلمینٹ کے نائب اسپیکر نیکزاد

ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیکزاد نے امریکی صدر کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے کھلے یا بند ہونے کا فیصلہ امریکی صدر کی سوشل میڈیا پوسٹیں نہیں بلکہ امریکا میں ایندھن کی قیمتوں کے اعداد و شمار کرتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر علی نیکزاد ثمرین نے آج منگل 14 میزان کو ایرانی پارلیمنٹ کے اجلاس سے قبل اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اسلامی انقلاب کے عظیم بانی کی روح، شہید رہبرِ امت کی روح اور حق و فضیلت کی راہ میں شہید ہونے والوں کو سلام پیش کرتے ہیں اور اسلامی انقلاب کے رہبر کی صحت، عافیت اور کامیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

پولیس جامع اور پائیدار امن کے قیام میں پیش پیش ہے

ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر نے پولیس کے ہفتے کے موقع پر مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے والے محنتی، مخلص اور سرگرم پولیس اہلکاروں، بالخصوص سرحدوں کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو مبارک باد پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ پولیس امن، ملکی اقتدار اور نظم و ضبط کی محافظ اور مختلف شعبوں میں ترقی اور خوشحالی کی ضامن ہے، اس لیے ان اہلکاروں کی خدمات کا اعتراف ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

نیکزاد نے مزید کہا کہ مختلف شعبوں میں اندرونی امن کے بغیر کسی بھی میدان میں ترقی اور خوشحالی کے مواقع پیدا نہیں ہو سکتے اور اسلامی جمہوریہ ایران کی مخلص پولیس جامع اور پائیدار امن کے قیام میں پیش پیش ہے۔

حقیقت کا فیصلہ میدان کرتا ہے، لفظوں کی بازی گری نہیں

ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر نے کہا کہ دوسری بات امریکا کے صدر کے بے بنیاد اور مایوسی سے بھرے دعووں کے بارے میں ہے۔ جب ایک نام نہاد سپر پاور کو ایران کی عظیم قوم کے پختہ عزم اور مضبوط ایمان کے سامنے شکست کا تلخ ذائقہ چکھنا پڑتا ہے تو وہ ذرائع ابلاغ کی مہم، دھمکیوں اور شور شرابے کے ذریعے اس شرمناک شکست کو تسلیم کرنے سے بچنے کی کوشش کرتی ہے، لیکن حقیقت کا فیصلہ میدان کرتا ہے، لفظوں کی بازی گری نہیں۔

اردبیل، نیر اور نمین کے حلقوں سے رکن پارلیمنٹ نیکزاد نے مزید کہا کہ امریکا کا منصوبہ تھا کہ عراق کو اپنی 51ویں ریاست بنا لے، لیکن اسے ذلت اور خواری کے ساتھ 10 ہزار ہلاک اور 31 ہزار زخمی ہونے کے بعد طاقتور عراق سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑا۔

انہوں نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کھلی ہے یا بند، اس کا فیصلہ امریکی صدر کی کھوکھلی پوسٹیں نہیں بلکہ امریکا میں ایندھن کی قیمتوں کے اعداد و شمار کرتے ہیں۔ ایرانی قوم نے برسوں پہلے آزادانہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تھا اور وہ اپنے اس فیصلے پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کے مفاد میں ہے کہ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرے اور ایرانی قوم کے ارادے کے سامنے سر جھکا دے۔

امریکی صدر کی دھمکیوں کا مقصد اندرونی سیاست اور انتخابات پر اثرانداز ہونا ہے

ایرانی پارلیمنٹ کے نائب اسپیکر نے کہا کہ امریکی صدر کی دھمکیوں کا مقصد اندرونی استعمال ہے اور یہ امریکا کے داخلی انتخابات پر اثرانداز ہونے سے متعلق ہیں، ان کی کوئی عملی حیثیت نہیں۔ تاہم اسلامی جمہوریہ ایران دوبارہ کسی بھی مہم جوئی کا پہلے سے زیادہ مضبوط، فیصلہ کن اور شدید جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی ایران کی مسلح افواج اور جان نثار عوام دشمن کی کسی بھی جارحیت کا ایسا جواب دینے کے لیے تیار ہیں جو تاریخ کے لیے عبرت بن جائے۔

انہوں نے آخر میں ہمسایہ ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ اسلام دشمنوں کی دھمکیوں اور لالچ سے آزاد ہو کر ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور مذہبی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعلقات استوار کریں۔

نیکزاد نے کہا کہ مغربی ایشیا میں پائیدار امن اور مضبوط معیشت ایک مشترکہ کامیابی ہے، جو صرف باہمی تعاون کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔ بیرونی طاقتیں ہمسایہ ممالک کو خواب بیچتی ہیں، ان کی قیمت نقد وصول کرتی ہیں لیکن بدلے میں کوئی حقیقی فائدہ فراہم نہیں کرتیں۔ تمام ممالک کی ترقی اسی خطے کے حقیقی باشندوں کے باہمی تعاون سے وابستہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha