اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمنی فوجی امور کے ماہر عبدالغنی الزبیدی نے المیادین ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی دشمن سے وابستہ عناصر نے المخا کے علاقے میں پیش قدمی کی کوشش کی، تاہم یمنی فورسز کی مزاحمت کے نتیجے میں انہیں پیچھے ہٹنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ذو باب کے علاقے میں بھی سعودی عرب سے وابستہ فورسز نے محدود پیش قدمی کی، جو مختصر وقت تک جاری رہی، تاہم انہیں وہاں سے بھی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
اس سے قبل ایک اعلیٰ سطحی یمنی فوجی ذریعے نے المیادین کو بتایا تھا کہ یمنی مسلح افواج نے تعز صوبے کے 2 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد علاقے کو آزاد کرا لیا ہے اور سعودی عرب سے وابستہ عناصر کو المعافر اور المواسط کے علاقوں سے نکال باہر کیا ہے۔
اس ذریعے نے مزید بتایا کہ یمنی فورسز سعودی عرب کی حمایت یافتہ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی کے گھر تک بھی پہنچ گئی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعز میں عام معافی کا فیصلہ بدستور نافذ ہے اور آزاد کرائے گئے علاقوں میں امن و امان اور استحکام برقرار ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ سعودی عرب سے وابستہ فورسز جہاں بھی موجود ہوں گی، انہیں نشانہ بنایا جائے گا اور سعودی عرب ان جارحانہ کارروائیوں کو جاری رکھنے کے نتائج کا ذمہ دار ہوگا۔
آپ کا تبصرہ