6 اکتوبر 2026 - 17:04
غزہ پر مسلط کردہ جنگ کے تین سال بعد۔ حماس آج بھی غزہ پر حکومت کر رہی ہے

تین سال قبل اسرائیل نے غزہ کے خلاف مکمل جنگ چھیڑی اور نیتن یاہو نے دعویٰ کیا تھا کہ فتح صرف ایک قدم دور ہے۔ تاہم، دو سال بعد بھی صورتحال مختلف ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || صہیونی رجیم کے اندرونی سیکورٹی اداروں کی تازہ جائزوں نے تین سالہ جنگ کے بعد ایک تلخ حقیقت کا اعتراف کیا ہے: غزہ پر آج بھی حماس کا مکمل کنٹرول ہے، اس کے ہتھیار چھینے نہیں جا سکے، اور اسرائیلی فوج ایک کھلی جنگ میں پھنسی ہوئی ہے جس کا کوئی سیاسی افق نظر نہیں آتا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || صہیونی اخبار یدیعوت آحرونوت کے فوجی نامہ نگار الیشاع بن کیمون کے مطابق، ریاست کے سیکورٹی حکام تسلیم کرتے ہیں کہ 7 اکتوبر کے تین سال ـ اور نیتن یاہو کے "فتح سے ایک قدم دور" کے دعوے کے ڈھائی سال ـ بعد بھی غزہ کا میدان فیصلہ کن مرحلے سے دور ہے۔ اصل مسئلہ غزہ کی پٹی کے مستقبل کے لئے منظم سیاسی منصوبے کی عدم موجودگی ہے، جس کی وجہ سے حماس اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے۔

اسرائیلی فوج کے سینئر حکام سیاسی فیصلوں میں مداخلت نہیں کرتے اور صرف "پالیسیوں کی تعمیل" پر زور دیتے ہیں۔

ایک سیکورٹی اہلکار نے انکشاف کیا کہ ریزرو فورسز پر بھاری دباؤ ہے؛ ان کی اکثریت نے ـ اپنے 50 فیصد وقت میں ـ 7 اکتوبر 2023 سے 500 دن سے زائد ریزرو ڈیوٹی سرانجام دی ہے؛ چنانچہ اگلے سال ریزرو سروس کم کرنا پڑے گی کیونکہ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔

اس سے قبل، اسرائیل کی وزارت جنگ میں سیکورٹی پالیسی کے سابق سربراہ ڈرور شالوم نے بھی اعتراف کیا تھا کہ فوجی کامیابیوں کو طویل المدتی سیاسی کامیابی میں تبدیل نہ کرنے کی وجہ سے اسرائیل کو اسٹراٹیجک شکست کا سامنا ہے۔ حماس غزہ پر قابض ہے اور حزب اللہ نے بھی اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور فوجی صلاحیتوں کو برقرار رکھا ہے۔

شالوم نے تین سالہ جنگ کو "بے پناہ اخراجات" کا عنوان دیا؛ جس نے اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو بے مثال نقصان پہنچایا اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو کمزور کر دیا۔

شالوم نے نیتن یاہو کی سب سے بڑی ناکامیوں میں سے ایک اسرائیل کے دفاعی نظام کی اسٹریٹجک سطح کو نقصان پہنچانا قرار دیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha