اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ملک معتصم خان نے یہ بات تیسری بین الاقوامی کانفرنس بعثتِ امتِ محمد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ افریقہ، ایشیا، یورپ، امریکا اور آسٹریلیا میں آباد مسلمان ایک امت ہیں اور انہیں انسانیت کے مسائل کے حل میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے قرآن کریم کے تصور امتِ وسط کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلام نہ صرف دنیاوی زندگی کو سب کچھ قرار دیتا ہے اور نہ دنیا سے مکمل کنارہ کشی کی تعلیم دیتا ہے، بلکہ دنیا اور آخرت کے درمیان توازن قائم کرنے پر زور دیتا ہے۔
ملک معتصم خان نے کہا کہ جس طرح نبی کریم (ص) پوری انسانیت کے لیے رحمت بن کر آئے، اسی طرح مسلمانوں کو بھی انسانیت کے لیے رحمت کا ذریعہ بننا چاہیے۔
انہوں نے امتِ مسلمہ کی پہلی ذمہ داری ماحولیاتی تحفظ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پودوں، سمندروں، ہوا اور پانی کی حفاظت اور بہتر ماحول کی تشکیل مسلمانوں کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
انہوں نے معاشرتی مسائل کا ذکر کرتے ہوئے خاندان کے نظام کو مضبوط بنانے اور ایسے معاشرتی ڈھانچے کی تشکیل پر زور دیا جس میں ہر انسان باعزت زندگی گزار سکے۔
معاشی مسائل پر بات کرتے ہوئے ملک معتصم خان نے کہا کہ دنیا میں دولت کی کمی نہیں، تاہم اس کا بڑا حصہ محدود افراد کے پاس ہے جس کے نتیجے میں امیر اور غریب کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے۔ ان کے مطابق غربت کے خاتمے اور دولت کی منصفانہ تقسیم کے لیے اقدامات انسانیت کی اہم خدمت ہیں۔
جماعتِ اسلامی ہند کے نائب امیر نے امتِ مسلمہ کی ایک اہم ذمہ داری سیاسی میدان میں بھی قرار دی اور منصفانہ حکمرانی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام میں تمام انسانوں کو برابر انسانی وقار حاصل ہے، اس لیے مسلمان اور غیرمسلم سمیت ہر انسان کے لیے انصاف اور مساوات کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
ملک معتصم خان نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ امتِ مسلمہ کو ظلم اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کے ساتھ ساتھ رحمت اور عدل کا ذریعہ بننا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر مسلمان اپنی ذمہ داریاں درست طور پر ادا نہیں کرتے تو اس کے اثرات صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری انسانیت متاثر ہوگی۔
آپ کا تبصرہ