اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے 30 ستمبر کو کینیڈا کے قومی یومِ سچائی و مفاہمت کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام جاری کیا۔ یہ دن ان سینکڑوں بے نام قبروں کی دریافت کی یاد دلاتا ہے جن میں کینیڈا کے مقامی بچوں کو دفن کیا گیا تھا۔ یہ بچے ایسے تعلیمی نظام کا حصہ تھے جسے مقامی بچوں کے لیے قائم کیے گئے رہائشی اسکولوں کے نظام کے نام سے جانا جاتا تھا۔
اسماعیل بقائی نے اپنے پیغام میں لکھا:
«کینیڈا کے مقامی بچوں کا افسوسناک انجام آج بھی دنیا کے ضمیر کو متاثر کرتا ہے۔ ان بچوں کو زبردستی ان کے خاندانوں سے جدا کیا گیا، ان سے ان کے نام، زبان اور شناخت چھین لی گئی اور انہیں زبردستی یکساں بنانے کے ایک ایسے نظام میں رکھا گیا جس میں بہت سے بچوں کو بے رحمی سے تشدد اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ بہت سے بچے اپنے گھروں سے دور جان سے گئے اور بے نام قبروں میں دفن کردیئے گئے۔
30 ستمبر کو کینیڈا میں ’قومی یومِ سچائی و مفاہمت‘ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بظاہر اس کا مقصد مقامی بچوں کے رہائشی اسکولوں سے بچ جانے والے افراد، ان کے خاندانوں اور ان سینکڑوں بے گناہ مقامی طلبہ کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے جو کبھی اپنے گھروں کو واپس نہیں پہنچ سکے۔
تاہم مفاہمت کو صرف ایک یادگاری دن یا سیاسی رسمی بیانات تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ جب رہائشی اسکولوں کے بارے میں اہم سوالات کے جوابات ابھی تک نہیں دیے گئے اور ان اسکولوں کی کارکردگی اور نوعیت اب بھی ابہام میں ہے تو مفاہمت کا عمل نامکمل رہے گا۔
مقامی بچوں کا درد اور ان کی تکالیف کسی ثقافتی جنگ کا موضوع نہیں بلکہ سچائی اور جواب دہی کا مسئلہ ہے۔
مقامی بچوں کی بے نام قبروں سے متعلق سوالات کا جواب ثبوت، شفافیت اور ذمہ داری کے ذریعے دیا جانا چاہیے، نہ کہ انکار، حقائق کو مسخ کرنے یا خاموشی کے ذریعے۔
سچائی بیان کیے بغیر مفاہمت ممکن نہیں اور جواب دہی کے بغیر انصاف حاصل نہیں ہوسکتا۔»
آپ کا تبصرہ