اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، توانائی کی فراہمی میں مسلسل رکاوٹ کے باعث یورپی فضائی کمپنیوں کو ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور اپنی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے ہوائی ٹکٹوں کی قیمتوں، فضائی نقل و حمل اور مختلف مصنوعات کی قیمتوں پر بھی منفی اثر پڑ سکتا ہے۔
الجزیرہ نیٹ کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے دوران جرمن فضائی کمپنی لوفتھانزا گروپ نے اپنے مالی اندازوں پر نظرثانی کا اعلان کیا ہے۔ ان نئے اندازوں سے عالمی توانائی کی منڈی میں اتار چڑھاؤ کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ کی شدت ظاہر ہوتی ہے۔ اسی دوران خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ رواں سال کی آخری سہ ماہی میں یورپ کو ایندھن کی فراہمی میں کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
لوفتھانزا کے ایندھن کے اخراجات میں 1.5 ارب یورو کا اضافہ
لوفتھانزا گروپ کے چیف ایگزیکٹو کارستن اشپور نے کہا ہے کہ رواں سال کمپنی کے اضافی ایندھن کے اخراجات 1.5 ارب یورو، یعنی تقریباً 1.7 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گے۔
اس طرح رواں سال اس گروپ کے مجموعی ایندھن کے اخراجات تقریباً 9 ارب یورو، یعنی تقریباً 10.5 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔ یہ رقم گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہوگی۔ اس اضافے کی بنیادی وجہ طیاروں کے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ بتایا گیا ہے۔
دنیا بھر کی فضائی کمپنیوں کے مجموعی عملیاتی اخراجات میں ایندھن کا حصہ تقریباً 40 فیصد ہے۔ یورپ میں بھی طیاروں کے ایندھن کی قیمتیں گزشتہ ستمبر تک ایران کے خلاف جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد بڑھ چکی تھیں۔
ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے قبل مشرق وسطیٰ یورپ کی طیاروں کے لیے درکار تقریباً 75 فیصد ایندھن فراہم کرتا تھا، تاہم ایران کے خلاف امریکہ کی جنگ کے دوران اس مقدار میں شدید کمی واقع ہوئی۔
اصل بحران اگلی گرمیوں میں سامنے آسکتا ہے
موسم گرما کے اختتام اور سردیوں میں ایندھن کی طلب میں کمی کے بعد یورپ کو کچھ عارضی ریلیف مل سکتا ہے، تاہم طیاروں کے ایندھن کے ماہر جارج شو کے مطابق اصل مسئلہ اگلی گرمیوں میں مزید سنگین ہوسکتا ہے۔
شو کے مطابق یورپی ممالک گزشتہ عرصے کے دوران ایشیا سے 7 لاکھ بیرل تیل حاصل کرنے میں کامیاب رہے، جس سے بحران کے اثرات کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد ملی۔ انہوں نے الجزیرہ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے مستقبل میں یہ مقدار یورپ کو دستیاب نہ رہے۔
شو کے مطابق بحران کے جاری رہنے اور رواں سال کے اختتام اور اگلے سال کے آغاز میں ایشیائی منڈیوں میں طلب میں ممکنہ اضافے کے باعث جنوبی کوریا سے یورپ کو ملنے والے ایندھن کی مقدار بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگلی گرمیوں تک صورتحال مزید مشکل ہوسکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ