1 اکتوبر 2026 - 16:10
صیہونی حکومت اور امارات ایتھوپیا کی حمایت کی راہ پر؛ اریٹیریا کو سوڈان جیسی صورتحال سے دوچار کرنے کا خدشہ

بنیامین نیتن یاہو کے حالیہ دورۂ امارات اور ایتھوپیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے افریقہ کے سینگ اور بحیرہ احمر میں نئی علاقائی صف بندیوں کے امکانات کو نمایاں کر دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اتوار کے روز ابوظہبی کا دورہ کیا اور امارات کے صدر محمد بن زاید سے ملاقات کی۔ یہ دورہ ایتھوپیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے ساتھ ہوا ہے، جہاں خانہ جنگی کے ایک نئے مرحلے کے آغاز کے بعد وفاقی فورسز اور ٹگرائے پیپلز لبریشن فرنٹ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں جاری ہیں۔

لبنان کے اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو کے دورے کے ایجنڈے اور نتائج کے بارے میں واضح طور پر معلومات سامنے نہیں لائی گئیں، تاہم ایسا لگتا ہے کہ افریقہ کے سینگ میں ہونے والی پیش رفت بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان زیر بحث آئی اور دونوں نے خطے میں اپنے اہم مشترکہ اتحادی، ابی احمد کی حکومت کی حمایت کے لیے ضروری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

صیہونی حکومت اور امارات کی جانب سے ایتھوپیا کی حکومت کی حمایت مضبوط کرنے کے ایسے منصوبے سے ایک وسیع علاقائی جنگ بھڑکنے کا خدشہ ہے۔ خاص طور پر اگر صیہونی حکومت اور امارات کی حمایت سے ایتھوپیا اریٹیریا پر حملہ کرتا ہے تو امکان ہے کہ مصر بھی اسمرہ کی حمایت میں میدان میں اتر آئے۔

دوسری جانب ایتھوپیا کے حکام نے اریٹیریا پر جنگ میں براہ راست ملوث ہونے اور عفار کے علاقے میں براہ راست حملوں کے ذریعے ایتھوپیا اور جبوتی کے درمیان نقل و حمل اور مواصلاتی راستے منقطع کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا ہے۔

صیہونی حکومت اور ’’انقلابی محاذ‘‘

نیتن یاہو کے ابوظہبی دورے کو صیہونی حکومت کی جانب سے ’’اریٹیریا انقلابی محاذ‘‘ (EBRF) یا ’’نحمدو بریگیڈ‘‘ کی کھلی حمایت سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

اگرچہ اریٹیریا کی حکومت کے سیاسی مخالفین کئی برس سے مقبوضہ علاقوں میں موجود ہیں، تاہم رواں سال ستمبر کے دوسرے نصف میں صیہونی حکومت کی جانب سے اس محاذ کی حمایت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس محاذ نے اریٹیریا کے صدر اسیاس افورقی کی حکومت کا تختہ الٹنے کو اپنا مقصد قرار دیا ہے۔

یہ حمایت صیہونی حکومت میں اس گروہ کی ایک سیاسی شاخ کے قیام کے ذریعے کی گئی ہے۔ اس شاخ کا مقصد بیرون ملک مقیم اریٹیریا کے مخالفین کے درمیان وسیع سرگرمیاں انجام دینا ہے۔

نحمدو بریگیڈ کی سیاسی شاخ کی سرگرمیوں کے آغاز اور اگست میں اس کی 51 رکنی کونسل کے انتخاب کے ساتھ اس مخالف تحریک نے ایک نئے مرحلے میں قدم رکھا ہے۔ اس مرحلے کی بنیاد اریٹیریا میں افورقی کے بعد بحیرہ احمر میں ایک قابل اعتماد شراکت دار تلاش کرنے کی صیہونی حکومت اور امارات کی حکمت عملی سے ہم آہنگی ہے۔

عبرانی اخبار ہاآرتص نے رپورٹ کیا ہے کہ ’’انقلابی محاذ‘‘، جس کا مرکز جنوبی تل ابیب میں ہے، صیہونی حکومت کے ذریعے اور امریکا، کینیڈا، سویڈن، جرمنی اور ایتھوپیا میں اہم شاخیں قائم کرکے افورقی کے خلاف سرگرمیوں کے لیے اریٹیریا کے مخالفین کا ایک وسیع نیٹ ورک منظم کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔

یہ سرگرمیاں افریقہ کے بحیرہ احمر سے متصل ممالک کے ساتھ نئی شراکت داری قائم کرنے کی صیہونی حکومت کی حکمت عملی کے تحت انجام دی جا رہی ہیں۔ اس حکمت عملی میں بحری جہاز رانی، بحری قزاقی کے خلاف اقدامات اور بندرگاہوں کی سکیورٹی جیسے امور شامل ہیں۔

تل ابیب اس راستے میں صومالی لینڈ کے ساتھ اپنے تعاون کے ماڈل کو دہرانا چاہتا ہے، بالخصوص اپنے دو اہم اتحادیوں، امارات اور ایتھوپیا کے ساتھ تعاون کے ذریعے۔

اسی تناظر میں نیتن یاہو کا ابوظہبی کا دورہ، جو اکتوبر میں صیہونی حکومت کے پارلیمانی انتخابات سے تقریباً ایک ماہ قبل ہوا ہے، اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ تل ابیب ابوظہبی کے مفاد میں اریٹیریا اور بحیرہ احمر کے خطے میں وسیع تر مداخلت کی پیشکش کرنے پر غور کر رہا ہے۔ اس کے بدلے میں امارات کی جانب سے انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کی جا سکتی ہے۔

افریقہ کے سینگ میں امارات کے لیے مواقع

حالیہ ہفتوں کے دوران اریٹیریا نے اپنے سرکاری ذرائع ابلاغ کے ذریعے بحیرہ احمر اور افریقہ کے سینگ میں امارات کی پالیسیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر میڈیا مہم شروع کی ہے۔ یہ صورتحال اسمرہ اور ابوظہبی کے درمیان اختلافات کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مبصرین کا کہنا ہے کہ ایتھوپیا کی خودمختار حیثیت کے ساتھ بحری گزرگاہ حاصل کرنے کی کوشش کا امارات کی جانب سے بحیرہ احمر میں اسی طرح کے مقصد کے حصول کی کوشش سے براہ راست تعلق ہے اور ایتھوپیا عملی طور پر امارات کے لیے ایک نیابتی کردار ادا کر رہا ہے۔

بحیرہ احمر میں ایتھوپیا کے عزائم کی سعودی عرب اور مصر کی جانب سے شدید مخالفت بھی اس جائزے کو تقویت دیتی ہے، کیونکہ ایتھوپیا کے مطالبات کی تکمیل سے اس سمندر کے ساحلی دیگر ممالک کی حیثیت نمایاں طور پر کمزور اور بحیرہ احمر کے سکیورٹی انتظامات مستقل طور پر صیہونی حکومت، ایتھوپیا اور امارات کے اتحاد کے حق میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔

ایتھوپیا میں جاری لڑائی، جو بتدریج 2020 سے 2022 تک جاری رہنے والی سابقہ ٹگرائے جنگ کی ایک وسیع تر شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، کے دوران توقع ہے کہ امارات اریٹیریا کے لیے بھی سوڈان میں اختیار کیے گئے طریقہ کار سے ملتا جلتا منصوبہ اختیار کرے گا۔

بعض اطلاعات کے مطابق ابوظہبی اریٹیریا کے مخالفین، بالخصوص ’’انقلابی محاذ‘‘ کے لیے نقد مالی امداد اور رسد کی معاونت کا ایک راستہ تیار کر رہا ہے۔ اس محاذ کا دعویٰ ہے کہ اریٹیریا کے اندر اور بیرون ملک اس کے تقریباً 20 لاکھ حامی موجود ہیں۔

صیہونی حکومت بحیرہ احمر یا ایتھوپیا کے راستے اس حمایت کو منتقل کرنے کے لیے ایک موزوں ذریعہ ثابت ہو سکتی ہے۔

یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امارات اریٹیریا میں مسلح عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کرے گا اور اس مقصد کے لیے اریٹیریا اور عفار کے علاقے کے درمیان زمینی گزرگاہوں سے فائدہ اٹھائے گا۔

یہ امکان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اریٹیریا کی فوج کی جانب سے عفار سے متصل علاقے میں شدید حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ علاقہ ایتھوپیا کے لیے اریٹیریا کی دو بندرگاہوں، عصب اور مصوع، کے حوالے سے تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بعض رپورٹس میں اریٹیریا اور ایران کے درمیان تعلقات میں قربت کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اسمرہ نے ماسکو اور بیجنگ کے ساتھ بھی اپنے تعلقات مضبوط کیے ہیں۔

دوسری جانب 2018 میں سعودی عرب اور امریکا کی ثالثی میں ادیس ابابا اور اسمرہ کے درمیان امن معاہدے پر دستخط کے بعد اریٹیریا کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کی حمایت کے لیے طے کیے گئے اقتصادی انتظامات بھی ناکام رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha