بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران امریکہ کے وسیع فوجی حملوں کے دوبارہ آغاز ہونے کی صورت میں زیادہ وسیع اور شدید جواب دینے کی تیاری کر رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، ایران کے سینئر فوجی کمانڈر ایسے منصوبوں پر غور کر رہے ہیں جن کے تحت امریکی جارحیت کی صورت میں امریکہ سے منسلک اثاثوں اور مفادات سے آگے کے اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان اہداف میں امریکی فوجی کارروائی کی حمایت کرنے والے ممالک اور ممکنہ طور پر مشرق وسطیٰ سے باہر کے اہداف بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
ایران اس کے ساتھ ساتھ سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم ایرانی حکام نجی محافل میں ان کوششوں کی کامیابی کے امکانات کو کم سمجھتے ہیں۔ صدر مسعود پزشکیان کی نیویارک سے واپسی کے بعد سے ایرانی کمانڈروں اور سینئر حکام نے ممکنہ جوابات کی وسعت اور وقت کی منصوبہ بندی پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔
رائٹرز کے مطابق ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہؤا، تاہم دونوں طرف سے مصالحت کی کوئی علامت دیکھنے میں نہ آنے کے باعث ایران کے جوابی حملوں کی منصوبہ بندی تیز ہو گئی ہے۔ ایران نے لبنان، یمن اور عراق میں اپنے ہم خیال گروہوں سے کہا ہے کہ وہ امریکی حملوں کے دوبارہ آغاز ہونے کی صورت میں ایران کی حمایت کے لئے تیار رہیں۔ یہ ہدایات ایک مربوط جواب کی تیاری پر مرکوز ہیں جس کا دائرہ آبنائے ہرمز سے لے کر پورے خطے اور ممکنہ طور پر مشرق وسطیٰ سے باہر امریکی مفادات تک پھیل سکتا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، جنگ کے دوران وقفے اور دوبارہ حملے جاری رہے اور ایران میں ہزاروں عام شہری شہید ہوئے۔
دوسری طرف، جنگ نے امریکہ کے لئے ٹرمپ کے بدلتے اہداف حاصل نہیں کئے اور پینٹاگون کے میزائل ذخائر میں کمی آئی ہے۔
گذشتہ ہفتوں میں انصاراللہ کی باب المندب کی طرف پیش قدمی نے عالمی توانائی کی ترسیل کے راستوں پر دباؤ کا ایک اور اوزار محاذ مقاومت کو فراہم کر دیا ہے، جس سے ایران کی ہم خیال یمنی فوج اور انصار اللہ کو بحیرہ احمر کے جنوبی دروازے پر دباؤ ڈالنے کا موقع ملا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ