بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || پاکستانی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ـ جن کا ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف امریکہ کی مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے لئے ثالثی کا دعویدار ہے ـ نے تہران کے خلاف واشنگٹن کے موقف کی حمایت کر دی۔
ڈار نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کی مخالفت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس آبی گذرگاہ کی حیثیت کو اسی حالت میں بحال کیا جائے جو ایران کے خلاف امریکہ کی مسلط کردہ جنگ سے پہلے تھی۔
پاکستانی میڈیا نے ان کا یہ بیان نقل کیا: "[آبنائے ہرمز سے] تجارتی جہازوں کی آمدورفت بلا روک ٹوک اور کسی بھی قسم کی فیس یا ٹول سے مبرّا ہونی چاہئے۔"
پاکستانی وزیر خارجہ نے "معاہدہ مکہ" کے حوالے سے اپنے ریمارکس میں، کہا: "معاہدہ مکہ کے تحت قائم کردہ اسٹراٹیجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا اجلاس جلد ہی ریاض میں منعقد ہوگا۔"
ڈار نے وضاحت کی: "ریاض اجلاس کی توجہ سعودی عرب کے خلاف حوثی حملوں پر مرکوز ہوگی اور بات چیت کا محور فوجی کارروائی کے بجائے حوثیوں کے ساتھ سیاسی رابطے اور تعامل ہوگا۔"
وی با ادعای اینکه بیش از ۶ کشور خواستار پیوستن به پیمان مکه هستند، افزود: «تا زمان عملیاتیشدن کامل توافقنامه، که میتواند تا یک سال طول بکشد، هیچ درخواست عضویت جدیدی بررسی نخواهد شد».
اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا: "چھ سے زائد ممالک مکہ معاہدے میں شامل ہونے کے خواہشمند ہیں، لیکن معاہدے کے مکمل طور پر آپریشنل ہونے تک رکنیت کی کسی نئی درخواست پر غور نہیں کیا جائے گا اور عمل میں ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔"
پاکستانی وزیر خارجہ کے بیانات کا "دہشت گرد امریکی حکومت" کے موقف سے یہ ہم آہنگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی حیثیت کبھی بھی جنگ سے پہلے والے دور کی طرح بحال نہیں ہوگی اور تہران کی اجازت کے بغیر کوئی بھی جہاز اس آبی گذرگاہ سے نہیں گذر سکتا۔
نکتہ:
"پاکستان اندرون ملک دہشت گردی کے پھیلے ہوئے نیٹ ورک کا سامنا کر رہا ہے، جہاں وہ کسی بھی قسم کی کامیابی حاصل نہیں کر سکا ہے؛ ادھر بھارت کے ساتھ اس کے تعلقات ـ نہ جنگ نہ امن ـ کی کیفیت سے گذر رہے ہیں۔ پاکستان افغانستان پر ـ دہشت گردوں کو پناہ دینے کے بہانے ـ آئے دن حملے کر رہا ہے اور جب ایران خلیج فارس کی ریاستوں میں امریکی اڈوں کی طرف سے حملوں کا جواب دینے کے حق کی بنیاد پر عرب ریاستوں میں امریکیوں پر حملہ کرتا ہے، تو یہ ملک اس ملک کے اس قانونی حق کا انکار کرتا ہے، اور اس ملک کے فوجی اور سیاسی حکام کی طرف سے عجیب و غریب بیانات سامنے آتے ہیں۔
پاکستان کے ساتھ آج تک دو پڑوسی ممالک کے تعلقات کچھ مثبت تھے: چین اور ایران؛ جن میں سے ایک کو وہ بظاہر، کھو رہا ہے اور ایران کے خلاف بھی محاذ آرائی کرنے والے مغربی-صہیونی محاذ کے ساتھ ہم آہنگ ہونے پر تلا ہؤا ہے۔
یہ ملک یمن کے معاملے میں سعودی ریالوں کے لالچ میں، ایک مبہم اتحاد کا حصہ بن گیا ہے جس کا مستقبل بالکل غیر یقینی ہے اور یوں یہ اپنے انتہائی سنجیدہ اندرونی معاملات سے غافل ہوکر، آبنائے ہرمز کے معاملے بھی اپنا موقف جارح امریکی دشمن کے ساتھ ہم آہنگ کر رہا ہے، اور یوں وہ خلیج فارس کی عرب ریاستوں کی پیروی کرکے ایک بڑے علاقائی تنازع میں بھی فریق بننے کے لئے پر تول رہا ہے۔
چنانچہ اس پاکستانی موقف پر اٹھنے والے سوالات میں سے ایک یہ ہے کہ اگر مانا جائے کہ حکومت پاکستان نظریاتی وابستگیوں سے مبرّا ہوکر صرف اپنے مفادات کے حصول کے لئے کوشاں ہے، تو اس رجحان کی وجہ سے اس کو کونسے مفاد کے حصول کی ضمانت مل سکتی ہے؟ اور اب جبکہ اسلام آباد کی توجہ غیر متعلقہ بیرونی مسائل پر مرکوز ہوگی تو کیا یہ وہی واقعہ نہیں ہے جس کا ٹی ٹی پی اور بلوچ علیحدگی پسندوں کو توقع تھی؟ اور کیا پاکستانی عوام کو پھر بھی دہشت گردوں کی جانب سے مسائل و مصائب کا سامنا نہیں ہوگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ