بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || یورپی یونین میں امریکی سفیر، اینڈریو پزڈر (Andrew Puzder) نے یورونیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اگر یورپی یونین اپنی اسلحہ ساز صنعتوں کو ترجیح دینے پر ضد کرے تو اس کا مطلب "اپنے اتحادیوں کو دور کرنا" ہوگا اور یورپ اور امریکہ کا مشترکہ [Transatlantic] دفاعی صنعتی نظام بکھر جائے گا۔
پوزدر نے بدھ کے روز برسلز میں یورونیوز کے دفاع اور خلائی امور کے اجلاس میں کہا: "صرف ہمارے دشمن ہیں جو اس صورتحال سے فائدہ اٹھائیں گے، یہ کہ ہم اپنی مشترکہ دفاع کی حمایت کے لئے سب سے مؤثر ہتھیار رکھنے کو یقینی بنانے پر اپنی توجہ کھو دیں۔"
پزڈر نے مزید کہا: "کسی طاقتور دشمن کی طرف سے رکن ممالک میں سے کسی ایک پر صرف ایک حملہ ہی کافی ہے کہ ہم سب خوش ہوں کہ ہم نے علاقائی معیشت کے بجائے، ہتھیاروں کی برتری پر توجہ مرکوز رکھی ہے!"
پزدر نے کہا: "ہم کھلی بات چیت جاری رکھیں گے۔ کبھی کبھی ہمارے درمیان اختلاف رائے ہوگا۔ مجموعی طور پر، مجھے یقین ہے کہ ہم اتفاق رائے تک پہنچ جائیں گے۔"
امریکی سفیر نے مزید کہا: "یورپی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ اس کا "ارادہ نہیں ہے" کہ یورپی یونین کے رکن ممالک کو امریکی ہتھیاروں کے نظام خریدنے کے لئے اپنا قومی بجٹ استعمال کرنے سے روکے۔"
پزڈر نے یہ بھی کہا: "جب زندگیاں داؤ پر لگی ہوں تو حل کا تعین جغرافئے کے بجائے صلاحیت اور رسائی کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔"
واضح رہے کہ یورپی کمیشن اور رکن ممالک نے ایسی تجاویز دی ہیں جن میں اسلحہ بنانے والی مقامی صنعتوں کو ترجیح دینا اور یورپ کا امریکہ میں بننے والے ہتھیاروں پر انحصار کم کرنا، بھی شامل ہے۔
یہ تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں یورپ اور امریکہ کے اتحاد میں دراڑیں پڑی ہیں۔
ٹرمپ کی گرین لینڈ پر زبردستی قبضے کی دھمکی اور یوکرین کی مالی اور فوجی مدد سے، واشنگٹن کی نمایاں پسپائی، نے یورپی یونین کی یورپ میں بننے والے ہتھیاروں کو ترجیح دینے کی کوششوں کو مزید تیز کر دیا ہے۔
ادھر پینٹاگون نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی ہے، حالانکہ امریکی انتظامیہ نیٹو کے یورپی اتحادیوں شدید دباؤ ڈآل رہی ہے کہ وہ اپنے دفاع کے معاملے میں مزید خود مختار بنیں۔
تاہم، ان تجاویز نے رکن ممالک کے درمیان دراڑ ڈال دی ہے اور کچھ حکام نے، ہتھیاروں کی پیداوار میں امریکی کی برتری صلاحیت کا حوالہ دیتے ہوئے اس براعظم میں حد سے زیادہ تحفظ پسندی کے خلاف انتباہات دیئے ہیں۔
تاہم، ان تجاویز نے یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان پھوٹ ڈال دی ہے، اور کچھ عہدیداروں نے ـ امریکہ کی اسلحہ سازی کی بے پناہ صلاحیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ـ براعظم کے اندر انتہاپسندانہ تحفظ پسندی پر مبنی پالیسیوں (protectionism) کے بارے میں خبردار کیا ہے۔
نیٹو کے سینئر کمانڈر الیکسس گرنکویچ نے منگل کے روز یورپی پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کو خبردار کیا کہ مقامی سازوسامان کو ترجیح دینے سے متعلق قانون سازی سے صرف یورپ کے "مخالفین" کو ہی فائدہ پہنچے گا۔
نیٹو کے سینئر 'امریکی' کمانڈر الیکسس گرینکویچ (Alexus Grynkewich) نے منگل کے روز یورپی پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی میں اپنی تقریر میں خبردار کیا کہ مقامی سازوسامان کو ترجیح دینے کو قانونی حیثیت دینے سے صرف یورپ کے "دشمنوں" کو فائدہ ہوگا۔
لگتا ہے کہ دنیا میں امریکہ سے دوری اور واشنگٹن پر عدم اعتماد کے تصورات عملی میدان میں آ رہے ہیں۔ اب یورپی یونین کی باری ہے، اور بعدازیں کئی خطوں میں اس رجحان کے اثرات دکھائی دینے والے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ