اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر نیتن یاہو کے عرب ممالک کے ساتھ انتہا پسند گروہوں اور اتحادوں کے خلاف اتحاد کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا: ’’سبحان اللہ! یہ کیسے ممکن ہے کہ مجرم نیتن یاہو ایک ہی رات میں فرشتہ اور یمنی کفار کے خلاف مجاہدین کا کمانڈر بن جائے؟‘‘
انہوں نے مزید لکھا کہ نیتن یاہو نے 2 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو شہید اور زخمی کیا ہے اور 20 لاکھ مسلمانوں کا محاصرہ کر رکھا ہے، جن میں سے بیشتر غزہ میں بیماری، بھوک اور سردی کے باعث جان سے گئے۔
محمد الفرح نے سوال کیا: ’’صیہونی حکومت، تکفیری سعودی حکومت اور ان سے وابستہ تکفیری گروہوں کے جرائم سے بڑھ کر اور کون سی انتہا پسندی اور بڑا جرم ہوسکتا ہے؟ اگر یہ حکومتیں خطے میں برائی اور دہشت گردی کا سرچشمہ نہیں ہیں اور اگر یہی وہ لوگ نہیں ہیں جو ہر جگہ تباہی، بربادی، دھماکے، خودکش حملہ آور اور قتل و غارت لائے ہیں تو پھر کون سے گروہ انتہا پسند ہیں؟‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’اگر ان حکومتوں، ان کے جرائم اور ان کی درندگی کے خلاف جنگ، اللہ کا قرب حاصل کرنا، اس کی راہ میں جہاد، مجرموں اور طاغوتوں کا مقابلہ کرنا اور فساد کو روکنا نہیں ہے تو پھر اللہ کی راہ میں جہاد کیا ہے اور کس کے خلاف کیا جائے گا؟‘‘
انصار اللہ کے سیاسی دفتر کے رکن نے مزید سوال کیا: ’’اور اگر نیتن یاہو اس جنگ کا کمانڈر ہے تو ان فوجیوں کو، جو اس کے پرچم تلے لڑ رہے ہیں، ان داڑھی والے، دیندار اور شہادت کے متلاشی افراد کو کیا کہیں گے؟ اور نبی اور قرآن سے وفاداری کے دعوے کو نیتن یاہو کی کمان میں لڑنے اور اس کے احکامات و ہدایات پر چلنے کے ساتھ ایک ہی وقت میں کیسے جمع کیا جاسکتا ہے؟‘‘
آپ کا تبصرہ