بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || تیسری مسلط شدہ جنگ کے بعد عوام کی مسلسل حاضریوں کے آغاز سے 220 سے زائد راتیں گذر چکی ہیں؛ ایسی 220 راتیں جن میں ایران کی سڑکیں اور گلیاں ایرانی عوام کی مسلسل حاضری کا منظر پیش کرتی آئی ہیں جو مختلف موسمی حالات میں، مجرم دشمن کی بمباری کے عین موقع پر، اور ہر قسم کی تشہیراتی فضا سازیوں کے درمیان، اپنے اسلامی وطن کے دفاع کے لئے میدان میں آئے؛ ایسی حاضری جو ہر رات پچھلی رات سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ جاری ہے۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ یہ تصویر اگرچہ آج کے دنوں سے تعلق رکھتی ہے، لیکن اس کی جڑیں انقلابِ اسلامی کے تجربے اور امام خمینی (اعلی اللہ مقامہ) کے کلمات میں تلاش کی جا سکتی ہیں؛ وہاں جب امام نے 7 اکتوبر سنہ 1979ع کو 'حزب جمہوری اسلامی' کے ارکان کے اجتماع میں محروم طبقے کے تحریک کی کامیابی میں کردار کے بارے میں بات کی اور اس فرمایا: "یہ عوام ہی تھے جنہوں نے اپنی حاضری سے انقلاب کو آگے بڑھایا۔"
امام خمینی (قُدِّسَ سِرُّہُ) نے اس تقریر میں انقلابی تحریک کے دوران عوام کی حاضری کی جو تصویر دیکھی تھی، اس کا ذکر کرتے ہوئے روایت فرمائی: "ایک شخص سے ـ جو کئی بچوں کے ساتھ ایک خفیه مقام سے باہر نکلا تھا ـ پوچھا گیا کہ تم کیا کرتے ہو؟ اس نے کہا کہ ہم صبح ہوتے ہی مظاہروں پر جاتے ہیں۔"
امامؒ نے تحریک کو آگے بڑھانے میں اِنہی سماجی طبقات کے کردار پر زور دیتے ہوئے فرمایا: "یہ تحریک تم جھگی نشینوں اور تم جیسے لوگوں یعنی محروم طبقوں کی برکت سے آگے بڑھی ہے۔"
یہ الفاظ صرف ایک تاریخی دور کی وضاحت کے لئے نہیں تھے؛ امامؒ نے مزید اس حاضری کو جوڑنے والے عنصر کا بھی تعین کیا اور فرمایا: آپ محروم طبقات ـ خواہ اکیڈمک ہو یا عالم دین ہو یا کوئی جھگی نشین اور مزدور ـ ہی تھے جنہوں نے اس طرح اتحاد و یکجہتی اور "اللہ اکبر" کے نعروں کے ساتھ آگے بڑھایا۔
امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کی نظر میں، عوام صرف سیاسی تبدیلیوں کے تماشائی نہیں تھے؛ انہوں نے اپنی میدان میں حاضری سے تحریک کے مرکزی انجن کو متحرک کر دیا۔ اسی نقطہ نظر سے امامؒ نے ان دھاروں کے بارے میں خبردار کیا جو انقلاب کی کامیابی کے بعد خود کو انقلاب کا ساتھی ظاہر کر رہے تھے لیکن جدوجہد کے دوران مؤثر حاضری نہیں رکھتے تھے؛ اور اس بات پر زور دیا کہ اسلام اور اسلامی جمہوریہ کے مخالف دھاروں کو عوام کو دھوکے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔"
امام خمینی (قُدِّس سِرُّہُ) نے اس تقریر کے تسلسل میں اس عامل کے بارے میں بات کی جو عوام کو میدان میں لایا تھا اور فرمایا: "اسلام ہی تھا جس نے ان [عوام] میں سے بہت سوں کو گھروں اور مکانوں سے باہر نکالا؛ اور اسلام ہی تھا جو یہ کامیابی لایا۔
امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) نے آخر میں عوام سے مخاطب ہو کر فرمایا: "مجھے امید ہے کہ مستقبل میں بھی تم ہی ہو گے جو اس تحریک کو آخر تک پہنچاؤ گے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: علی اشفعی اقدم
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ