29 ستمبر 2026 - 16:02
ایرانی چیف جسٹس اژه‌ای: مسلح افواج کی تیاری دونوں گزشتہ جنگوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے

ایران کے چیف جسٹس حجت الاسلام والمسلمین محسنی اژه‌ای نے کہا ہے کہ 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں میں ایران نے مشکلات اور نقصانات کے باوجود دشمن کو اپنے مقاصد حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی، جبکہ مسلح افواج کی موجودہ تیاری گزشتہ سال خرداد میں ہونے والی 12 روزہ جنگ اور40 روزہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے چیف جسٹس حجت الاسلام والمسلمین محسنی اژه‌ای نے سماجی، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی شعبوں کی بااثر شخصیات اور ماہرین کے ساتھ اپنی مشاورتی نشستوں کے سلسلے میں ڈیجیٹل کاروبار کے شعبے سے وابستہ افراد سے ملاقات کی۔

چیف جسٹس نے اس نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل کاروبار کا شعبہ نئے اور جدید امور میں شمار ہوتا ہے۔ عدلیہ ڈیجیٹل کاروبار کی ترقی کے لیے متعلقہ ذمہ داران کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی اور اس سلسلے میں کسی قسم کی مدد سے دریغ نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ہمارا ماننا ہے کہ ڈیجیٹل معیشت عوام کے لیے بالخصوص اضافی اخراجات میں کمی، اقتصادی طاقت کی تقسیم اور شہریوں کو سستی اور معیاری اشیا تک فوری رسائی کے حوالے سے نمایاں فوائد رکھتی ہے۔

انہوں نے ڈیجیٹل کاروبار کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل کاروبار کے ذمہ داران، کارکنان اور ماہرین کو اپنی سرگرمیوں کی ترقی میں رکاوٹوں کی نشاندہی اور انہیں دور کرنے کے لیے عدلیہ اور دیگر حکومتی اداروں کی مدد کرنی چاہیے۔ ممکن ہے آپ اس نتیجے پر پہنچیں کہ ملک میں ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں رکاوٹیں ساختی یا قانونی نوعیت کی ہیں، یہ کوئی مسئلہ نہیں اور موجودہ قانونی طریقہ کار کے دائرے میں رہتے ہوئے آپ کے شعبے کے ڈھانچے اور قوانین میں اصلاح کے لیے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ملک میں ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں بعض رکاوٹیں انسانی وسائل سے متعلق بھی ہوسکتی ہیں، لہٰذا آپ خود اس شعبے کے ذمہ داران آگے بڑھیں اور ڈیجیٹل معیشت میں انسانی وسائل کی تربیت، بھرتی اور سرگرمیوں کے فروغ کے لیے مسلسل کام کریں۔

چیف جسٹس نے بعض عدالتی امور اور طریقہ کار کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل معیشت کے شعبے سے وابستہ افراد اور کاروباری شخصیات کے لیے میری تاکیدی ہدایت ہے کہ جب ان کے کام میں کوئی رکاوٹ پیدا ہو اور انہیں کسی سرکاری یا حکومتی ادارے سے رجوع کرنا پڑے تو کسی بھی صورت متعلقہ اہلکار کو رشوت نہ دیں۔ ممکن ہے اس مرحلے پر آپ کا کام آگے نہ بڑھ سکے اور آپ منافع حاصل کرنے سے محروم رہیں، لیکن رشوت نہ دے کر آپ خود کو اور اپنے شعبے سے وابستہ دیگر افراد کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر آپ رشوت دینے میں ملوث ہوجائیں تو ممکن ہے وقتی طور پر آپ کا کام آگے بڑھ جائے اور آپ کو منافع بھی حاصل ہوجائے، لیکن اس سے آپ خود، آپ کا شعبہ اور آپ کے صارفین سب متاثر ہوں گے۔

چیف جسٹس نے ڈیجیٹل معیشت کے شعبے سے وابستہ افراد کی جانب سے اس شعبے کے لیے خصوصی عدالتی کمپلیکس کے قیام کے مطالبے کے جواب میں کہا کہ وہ ایسے عدالتی کمپلیکس کے قیام کے حامی ہیں جو خصوصی طور پر ڈیجیٹل کاروبار سے متعلق عدالتی اور قانونی امور سے نمٹے اور اسی مقصد پر توجہ مرکوز رکھے۔ تاہم اس مقصد کے حصول میں بعض رکاوٹوں اور کمیوں کا سامنا ہوسکتا ہے، جن میں ڈیجیٹل معیشت کے شعبے میں ماہر ججوں کی تربیت بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں ڈیجیٹل معیشت کے ذمہ داران ماہر ججوں کی تربیت میں ہماری مدد کریں۔ ہم آپ کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ بحیثیت سربراہ عدلیہ میں موجودہ قوانین، ضوابط اور ہدایات کے دائرے میں عدالتی مراکز اور متعلقہ اداروں کے لیے ایسے ضوابط اور ہدایات جاری کرنے کے لیے تیار ہوں جن کے ذریعے ڈیجیٹل کاروبار سے وابستہ افراد کے عدالتی اور قانونی امور کو آسان اور تیز بنایا جاسکے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ڈیجیٹل معیشت سے وابستہ افراد اور متعلقہ عدالتی حکام، بشمول عدلیہ کے قانونی و حکمت عملی کے نائبین، عدلیہ کے شماریات و انفارمیشن ٹیکنالوجی مرکز کے سربراہ اور دیگر متعلقہ عدالتی حکام کے درمیان مسلسل مشاورتی نشستیں منعقد ہوں۔

چیف جسٹس نے ملک میں ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کاروبار میں رکاوٹوں کا خاتمہ، سرمایہ کاری کے فروغ اور پیداواری معیشت اور اس کی شاخوں، بشمول ڈیجیٹل معیشت، کو مضبوط بنانا عدلیہ کی اہم اور بنیادی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسی بنیاد پر ہم نے متعلقہ عدالتی حکام کے لیے واضح ذمہ داریاں مقرر کی ہیں۔ مثال کے طور پر ہم نے تاکید کی ہے کہ اگر کسی اقتصادی اور پیداواری شعبے سے وابستہ شخص پر کوئی الزام عائد ہو تو جب تک ضرورت نہ ہو، اس کی عارضی گرفتاری سے گریز کیا جائے تاکہ گرفتاری کی وجہ سے اس کے کاروبار میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ اسی طرح اگر عارضی گرفتاری کے علاوہ کوئی اور عدالتی حکم جاری کیا جائے تو اس کا انتظام اس طرح کیا جائے کہ متعلقہ اقتصادی شخصیت جلد اور آسانی سے ضمانت جمع کراسکے یا ضامن پیش کرسکے۔

حجت الاسلام والمسلمین محسنی اژه‌ای نے کہا کہ ہماری ہدایات اور متعلقہ عدالتی حکام کو دی گئی تاکیدات کے مطابق جب کسی اقتصادی یا پیداواری شعبے سے وابستہ شخص کو عدالتی ادارے میں طلب کیا جاتا ہے تو وہ اپنے نمائندے یا وکیل کو متعلقہ ادارے میں بھیج سکتا ہے اور ضروری نہیں کہ وہ خود عدالت میں حاضر ہو، سوائے اس صورت کے جب مقدمے کے تقاضے ذاتی حاضری کو ضروری بنائیں۔

چیف جسٹس نے عدالتی مقدمات میں ماہرین کی رائے کے معاملے کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل کاروبار سے وابستہ افراد کی گفتگو سے بھی واضح ہوا کہ انہیں اپنے شعبے سے متعلق عدالتی مقدمات میں ماہرین کی آرا کے درمیان بعض نمایاں اختلافات پر شکایات ہیں۔ ہمیں بھی اس حوالے سے شکایات ہیں اور ہمارا ماننا ہے کہ مقدمات میں تاخیر کی ایک وجہ ایک ہی معاملے اور مقدمے کے بارے میں ماہرین کی آرا کے درمیان بعض اوقات پائے جانے والے نمایاں اختلافات ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم ڈیجیٹل معیشت کے ذمہ داران سے مدد چاہتے ہیں۔ آپ تعاون کریں تاکہ کم از کم آپ کے شعبے میں عدالتی مقدمات کے ماہرین کی آرا میں اس طرح کے نمایاں اختلافات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

چیف جسٹس نے اپنی گفتگو کے ایک اور حصے میں امریکی اور صیہونی دشمن کی بڑھتی ہوئی سازشوں اور اقدامات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں نے دنیا کی نظروں میں ایران کی عزت اور اقتدار کو مزید بڑھا دیا۔ ان دونوں جنگوں میں اگرچہ ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور ہمیں نقصان بھی اٹھانا پڑا، لیکن بالآخر ہم کامیاب ہوئے اور ہم نے دشمن کو، اس کے تمام فوجی اور غیر فوجی سازوسامان کے باوجود، اپنے اس مذموم مقصد تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی جو ایران کا خاتمہ تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب بھی ہم اللہ تعالیٰ پر توکل اور عوام پر اعتماد کرتے ہوئے، جو 7 ماہ سے سڑکوں پر موجود ہیں، دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور ہم تاکید کرتے ہیں کہ ہماری مسلح افواج کی تیاری بھی گزشتہ سال خرداد میں ہونے والی 12 روزہ جنگ  40 روزہ جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha