28 ستمبر 2026 - 16:31
صنعاء کی جوابی کارروائی کی دھمکی؛ سعودی عرب کے یمنی شہری تنصیبات پر حملے تیز

یمن کی مسلح افواج نے سعودی عرب پر یمن کی شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے اور جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے جاری رہے تو وہ اپنے اہداف کی فہرست وسیع کرکے سعودی دارالحکومت ریاض سمیت مزید اہم تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کی مسلح افواج نے ریاض پر یمنی شہریوں کے خلاف مزید جنگی جرائم اور یمن کے متعدد صوبوں میں بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ صنعاء نے سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے اہداف کی فہرست وسیع کرتے ہوئے بالخصوص سعودی دارالحکومت ریاض میں مزید حساس تنصیبات کو اپنے اہداف میں شامل کرسکتا ہے۔

صنعاء کے ایک فوجی ذریعے نے اخبار ’’الاخبار‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے شہری پلوں اور بنیادی ڈھانچے پر سعودی فضائی حملوں کو، اس دعوے کے ساتھ کہ ان مقامات کو میزائل داغنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، سعودی عرب کی ’’بڑی ناکامی‘‘ کی علامت قرار دیا۔

اس ذریعے نے زور دے کر کہا کہ شہری پلوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ اس نے خبردار کیا کہ صنعاء ان تباہ کاریوں کے جواب میں سعودی عرب کے تمام اہم پلوں، بالخصوص ریاض میں واقع پلوں کو اپنے اہداف کی فہرست میں شامل کرسکتا ہے اور یہ حملوں کے جواب میں ایک جائز اقدام ہوگا۔

یمن کے بازاروں، پلوں اور سڑکوں پر حملے

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران سعودی جنگی طیاروں نے شدید حملوں کے ایک سلسلے میں یمن کے متعدد تجارتی بازاروں، پلوں اور مختلف صوبوں کو ملانے والی سڑکوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں تعز، صعدہ اور الحدیدہ صوبوں میں شہداء اور زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

گزشتہ روز ہونے والے ایک حملے میں تعز شہر کے جنوب میں واقع التعزیہ ضلع کے ’’مفرق ماویہ‘‘ علاقے میں ایک تجارتی بازار کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں 50 شہری شہید یا زخمی ہوئے۔

گزشتہ چند دنوں کے دوران یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل بھی سعودی جنگی طیاروں نے لحج صوبے میں ایک تجارتی بازار کو نشانہ بنایا تھا، جس کے نتیجے میں متعدد یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے تھے۔

حالیہ حملوں میں 67 شہید اور 107 زخمی

صنعاء میں وزارت صحت کے سرکاری ترجمان انیس الاصبحی نے بتایا کہ رواں ماہ 3 ستمبر کو حملوں میں شدت آنے کے بعد سے گزشتہ روز تک سعودی حملوں میں شہداء کی تعداد 67 جبکہ زخمیوں کی تعداد 107 ہوگئی ہے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

دوسری جانب صنعاء کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ’’ایف-15‘‘ جنگی طیاروں نے تعز، الجوف، مأرب، ذمار اور صعدہ صوبوں پر 26 فضائی حملے کیے۔

جنگی علاقوں سے باہر بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا

جاری ہونے والی اطلاعات کے مطابق ریاض نے جان بوجھ کر یمن کے ان صوبوں میں بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جو جنگ کے دائرے سے باہر ہیں، تاکہ یمنی مسلح افواج کی جانب سے اپنے مزید جنگی طیاروں یا ڈرونز کو مار گرائے جانے سے بچ سکے۔

سعودی فضائی حملوں میں نشانہ بننے والے بنیادی ڈھانچے میں اب، تعز اور ذمار صوبوں کے درمیان رابطہ سڑک پر واقع ’’الدلیل پل‘‘ اور تعز شہر کو ساحلی شہر المخا سے ملانے والے راستے پر واقع ’’البرح پل‘‘ بھی شامل ہیں۔

ان دونوں پلوں پر حملوں کے نتیجے میں یمن کے مختلف صوبوں کے درمیان اندرون ملک آمدورفت اور نقل و حمل متاثر ہوئی ہے۔

یمن کی جانب سے جوابی کارروائی کا عندیہ

یمنی بازاروں اور پلوں پر حملوں کے جواب میں یمن کی مسلح افواج کی ممکنہ کارروائی کے بارے میں قیاس آرائیاں بڑھ رہی ہیں۔ اسی دوران یمنی حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ محمد عبدالسلام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شہریوں اور یمن کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف قتل و غارت میں شدت سعودی نظام کے یمن کی سرزمین اور عوام کے بارے میں حقیقی اور تباہ کن عزائم کو ظاہر کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان اقدامات سے سعودی عرب کو کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوگی بلکہ اس کی شکست مزید نمایاں ہوگی اور یہ ہمارے عوام کے لیے اپنے جائز مقاصد کے حصول کے لیے ثابت قدمی اور مزاحمت کو مزید مضبوط کرنے کا باعث بنے گا۔

ریاض میں کارروائی اور سعودی عرب میں اندرونی کشیدگی

یمن کی مسلح افواج اس سے قبل بھی سعودی عرب کے اندرونی علاقوں میں اہداف کے خلاف کارروائیاں کرچکی ہیں، جن میں تازہ ترین کارروائی رواں ہفتے کے آغاز میں ریاض کے خلاف کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق اس کارروائی کے بعد ریاض کی انتظامیہ نے خصوصی سکیورٹی اقدامات کیے اور اس صوبے میں تاحکم ثانی بالمشافہ تعلیم معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد تعلیم کا سلسلہ ’’مدرستی‘‘ نامی آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے دوبارہ شروع کیا گیا۔

مبصرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد سعودی عرب میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا فیصلہ ہے۔

اختتام/268

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha