اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،پزشکیان نے نیویارک کے دورے کے اختتام پر کہا کہ اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایران اور اس کے مؤقف کا دفاع کیا گیا۔ انہوں نے سوئٹزرلینڈ، ناروے، بنگلہ دیش، یورپی کونسل، لبنان، نیدرلینڈز، پاکستان، آرمینیا اور قطر کے رہنماؤں سمیت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی ملاقاتوں کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی اقدامات کے باعث خطے کے عوام مشکلات کا شکار ہیں اور اسلامی ممالک کو باہمی اختلافات کے بجائے متحد ہو کر اپنے مسائل کا سامنا کرنا چاہیے۔
پزشکیان نے کہا کہ ایران مذاکرات سے گریز نہیں کرتا، لیکن ایسے فریق کے ساتھ بات چیت کا کیا فائدہ جو اپنے دستخط شدہ معاہدوں کی پاسداری نہ کرے۔ ان کے مطابق ایران صرف اپنے ان حقوق کا مطالبہ کر رہا ہے جو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے تحت اسے حاصل ہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ خطے میں بدامنی کا بنیادی سبب امریکا اور اسرائیل ہیں اور ان کے بیانات اور اقدامات میں تضاد پایا جاتا ہے۔
انہوں نے غزہ کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عام شہریوں کے لیے خوراک اور پانی کی راہ روکنا ناقابل قبول ہے۔ پزشکیان نے ایران کے خلاف دہشتگردی کے الزامات کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک یا تہذیب کو تباہ کرنے کی بات قابل قبول نہیں۔
پزشکیان نے داخلی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو متحد ہو کر مشکلات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
آپ کا تبصرہ