بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان آج (23 ستمبر 2026ع) کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر، ممالک کی خودمختاری، قومی حکمرانی کے احترام اور قیام امن کی ضرورت پر زور دیا۔
پانچویں اور آخری قسط:
قتل عام کا ارتکاب اسرائیل کرتا ہے پابندیاں ایران پر لگتی ہیں
میں دہرانا چاہتا ہوں: جوہری بم اسرائیل کے پاس ہے، لیکن معائنہ کار ایران میں موجود ہیں۔ اسرائیل لوگوں کا قتل عام کرتا ہے، مگر پابندیاں ایران پر لگائی جاتی ہیں۔
یہ ایک ایسا المیہ ہے جسے سن کر انسان کو ہنسی آتی ہے: اسرائیل قتل و غارت کرتا ہے؛ لیکن پابندیاں ہم پر لگتی ہیں؛ ایسی پابندیاں جو درحقیقت غریبوں، بیماروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں۔
امریکہ اقوام عالم ـ اور خاص طور پر ایران ـ کے ساتھ بالکل یہی کرنا چاہتا ہے: عوام کو اس پلید اور گھناؤنے ایجنڈے کا شکار بنانا؛ اور وہ اسی وقت یہی کچھ کر رہا ہے۔
اگر ہم انصاف کے خواہاں ہیں تو دوستوں اور حریفوں، سب کو ایک ہی معیار سے دیکھنا چاہئے۔ انسانی حقوق جغرافیائی سیاسی (geopolitical) رقابت کا وسیلہ نہیں ہیں۔
ایران کسی خاص استحقاق کا طلبگار نہیں؛ وہ مساوی حقوق کا مطالبہ کرتا ہے اور ان کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں کو بھی تسلیم کرتا ہے۔
طاقت سے عاری دنیا خطرناک ہے، لیکن محض طاقت کی زبان پائیدار سلامتی کی ضامن نہیں ہے
اپنی طویل تاریخ کے دوران ایران نے ایک واضح حقیقت سیکھ لی ہے: طاقت سے عاری دنیا خطرناک ہوتی ہے، لیکن ایسی دنیا جو صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہو، وہ کبھی پائیدار سلامتی حاصل نہیں کر سکتی۔
اگر بین الاقوامی قانون کو صرف اس صورت میں نافذ کیا جائے کہ وہ طاقتوروں کے مفادات سے ہم آہنگ ہو، تو مزید قومیں اس نتیجے پر پہنچیں گی کہ انہیں اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے صرف اپنی ہی طاقت پر انحصار کرنا ہوگا۔ یہ ہم سب کے لئے ایک زیادہ خطرناک دنیا کے آغاز کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔
ہمیں اکیسویں صدی کو اور آمرانہ پالیسیوں اور طاقتوروں کی حکمرای کے دور میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہئے۔
ہمیں ایسی دنیا نہیں بنانی چاہئے جہاں طاقت، قانونی حیثیت (legitimacy) کی جگہ لے لے؛ پابندیاں، سفارت کاری کی جگہ لے لیں؛ دہشت گردی، سیاست کی جگہ لے لے؛ اور جنگ، بات چیت کی جگہ لے لے۔
ایران اپنی طاقت پر بھروسہ کرکے دنیا کی جانب تعاون کا ہاتھ بڑھاتا ہے
ایران دنیا کی جانب تعاون کا ہاتھ بڑھاتا ہے؛ ہم دنیا کو کسی اور جنگ کی طرف نہیں، بلکہ امن اور انصاف کی طرف بلاتے ہیں؛ اس لئے نہیں کہ ہم کمزور ہیں، بلکہ اپنی طاقت پر اعتماد اور اس ادراک کے ساتھ کہ اس خطے میں کوئی بھی تنہائی میں تحفظ حاصل نہیں کر سکتا۔
یا تو ہم مل کر امن و سلامتی قائم کریں گے یا پھر ہمیں مل کر بدامنی اور عدم تحفظ برداشت کرنا پڑے گا۔
ہم ایک ایسے مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں ا تصور کرتے ہیں جہاں امن و سلامتی، انصاف اور انسانی وقار تمام اقوام کے لئے ناقابلِ تنسیخ اور مشترکہ حقوق ہوں؛ ایک ایسا مستقبل جہاں کسی قوم کو کھڈے لائن نہ لگایا جاتا ہو، طاقت کے شور و غل میں کسی کی آواز نہ دبائی جاتی ہو، اور کسی طاقت کو یہ حق حاصل نہ ہو کہ وہ دوسروں کے مستقبل کا فیصلہ کرے۔
بین الاقوامی نظام کے شایانِ شان کسی بھی نظام کی بنیاد اقوام کی برابری، انصاف، مساوات اور انسانیت کے اجتماعی عزم پر ہونی چاہئے؛ کیونکہ جو امن سب کے لئے نہ ہو وہ امن نہیں ہے، اور جو انصاف سب کا احاطہ نہ کرے وہ انصاف نہیں ہے۔
امریکی صدر کی تقریر غنڈہ گردی اور جبر کی منطق پر مبنی نمایاں علامت
آخرکار، عالمی رائے عامہ، مفکرین، سیاست دانوں اور قانونی ماہرین کی نظر میں امریکی صدر کے گذشتہ روز کے بیانات واضح طور پر غنڈہ گردی اور جبر کی منطق کی نمایاں علامت اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے سراسر منافی ہیں۔
انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ دھمکیاں ہماری قوم کو مزید متحد اور مضبوط بناتی ہیں اور ایرانی مزاحمت کو مزید تقویت دیتی ہیں۔
ایرانی قوم جبر کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرے گی اور جارحین کو اپنے اقدامات پر پچھتانے پر مجبور کرے گی۔ یہ وہ بات ہے جسے ٹرمپ اور غنڈہ گردی کے خواہشمند افراد کو سمجھ لینا چاہئے۔
ہم بات چیت کے لئے تیار ہیں، لیکن سب جان لیں ہم طاقت کی زبان قبول نہیں کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ