24 ستمبر 2026 - 09:38
اقوام متحدہ میں صدر پزشکیان کی تقریر (4): مظلوم قوموں کی مزاحمت فطری عمل / بم اسرائیل میں ہے، معائنہ کار ایران میں!

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایرانی قوم کے خلاف امریکہ کے وہمی صدر کے الزامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم جنگ سے نہیں ڈرتے، اور ہم جان دینے تک ایران کے دفاع  کے لئے تیار ہیں۔ / مظلوم قوموں کی مزاحمت فطری عمل ہے۔ / بم اسرائیل میں ہے لیکن ایجنسی کے معائنہ کار ایران میں ہیں!۔ / قتل عام کا ارتکاب اسرائیل کرتا ہے پابندیاں ایران پر لگتی ہیں ۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان آج (23 ستمبر 2026ع‍) کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر، ممالک کی خودمختاری، قومی حکمرانی کے احترام اور قیام امن کی ضرورت پر زور دیا۔

چوتھی قسط:

مظلوم قوموں کی مزاحمت فطری عمل ہے

یہ انسانیت اور انسانی فطرت کا بنیادی تقاضا ہے کہ اگر کسی شخص کو اس کی زمین سے بے دخل کیا جائے تو وہ مزاحمت کرتا ہے۔ اگر اس کے گھر بار پر بمباری کی جائے تو وہ مزاحمت کرتا ہے۔ وہ مزاحمت نہ کریں تو کیا کریں؟ کیا وہ ظلم و جبر کو تسلیم کر لیں؟ کیا ایسی جارحیت کے سامنے خاموش رہیں، کیا وہ اپنے گھروں سے بے دخلی کو قبول کر لیں؟ اور اگر وہ اپنا دفاع کرنے کی کوشش کریں تو انہیں دہشت گرد قرار دے دیا جائے؟ یہ وہ نیا بیانیہ ہے جس نے آج کی دنیا میں جنم لیا ہے۔

یہ بات عیاں ہے کہ ہمارے خطے کو درپیش مسائل کا حل خود خطے کے اندر اور خطے کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس سے پہلے کہ انہیں دور دراز کی طاقتوں کی جنگوں کا بہانہ بنایا جائے۔

تزویراتی خودمختاری کا مطلب اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کسی بھی غیر ملکی طاقت کے ساتھ تعلقات، کسی پڑوسی ملک کے خلاف جنگ کی راہ ہموار نہ کریں۔

ہم جنگ سے ڈرنے والے نہیں ہیں بلکہ خون کے آخری قطرے تک ایران کا دفاع کرنے کے لئے تیار ہیں

اب میں ان لوگوں سے مخاطب ہوں جو ہماری سرزمین پر حملے کے فیصلے، منصوبہ بندی اور اس کے نفاذ کے ذمہ دار ہیں۔ ہماری قوم ان کی عسکری طاقت اور ان کے تباہ کن فیصلوں کے نتائج کا براہِ راست تجربہ کر چکی ہے؛ انہوں نے ایران کے عزم و استقلال کو آزما لیا ہے اور اب وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ جنگ کے ذریعے ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

ایران نے کبھی جنگ کی ابتدا نہیں کی اور ہمیشہ مذاکرات کی میز کی پابندی کا عملی ثبوت دیتا آیا ہے۔

ہم پر جنگ مسلط کی گئی، اس کے باوجود ہم نے ثابت کیا کہ جب بات اپنے دفاع کی ہو تو ہم جنگ سے نہیں گھبراتے، اور نہ ہی امن کی خاطر مذاکرات سے گریز کرتے ہیں؛ ہم اپنے پیارے ایران کے دفاع کے لئے آخری دم تک کھڑے ہیں۔

بم اسرائیل میں ہے لیکن ایجنسی کے معائنہ کار ایران میں ہیں!

خواتین و حضرات، اس سربراہی اجلاس کا موضوع 'اعتماد کی بحالی' ہے۔ اعتماد محض الفاظ سے قائم نہیں ہو سکتا؛ اس کے لئے دوہرے معیاروں کے خاتمے کی ضرورت ہے۔

اس خطے میں ایٹمی بم اور دیگر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اسرائیلی ریاست کے پاس ہیں، مگر معائنے کے مطالبات ایران سے کئے جاتے ہیں۔

اسرائیل نے غزہ میں 80 ہزار لوگوں کا قتلِ عام کیا، اس کے باوجود مذاکرات کی میز پر موجود ایران کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیل کے پاس ایٹمی بم موجود ہیں اور وہ این پی ٹی (NPT) کا رکن بھی نہیں ہے؛ اس نے اپنی شرمناک تاریخ میں کبھی اس معاہدے میں شمولیت اختیار نہیں کی؛ اس کے باوجود اس کو اربوں ڈالر کے ہتھیار مفت ملتے ہیں اور اسے کسی بھی دارالحکومت پر بمباری کرنے کی چھوٹ حاصل ہے۔

قتل عام کا ارتکاب اسرائیل کرتا ہے پابندیاں ایران پر لگتی ہیں

میں دہرانا چاہتا ہوں: جوہری بم اسرائیل کے پاس ہے، لیکن معائنہ کار ایران میں موجود ہیں۔ اسرائیل ہلاکتیں کرتا ہے، مگر پابندیاں ایران پر لگائی جاتی ہیں۔

یہ ایک ایسا المیہ ہے جسے سن کر انسان کو ہنسی آتی ہے: اسرائیل قتل و غارت کرتا ہے؛ لیکن پابندیاں ہم پر لگتی ہیں؛ ایسی پابندیاں جو درحقیقت غریبوں، بیماروں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتی ہیں۔

امریکہ اقوام عالم ـ اور خاص طور پر ایران ـ کے ساتھ بالکل یہی کرنا چاہتا ہے: عوام کو اس پلید اور گھناؤنے ایجنڈے کا شکار بنانا؛ اور وہ اسی وقت یہی کچھ کر رہا ہے۔

اگر ہم انصاف کے خواہاں ہیں تو دوستوں اور حریفوں، سب کو ایک ہی معیار سے دیکھنا چاہئے۔ انسانی حقوق جغرافیائی سیاسی (geopolitical) رقابت کا وسیلہ نہیں ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha