اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، البرادعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ خلیجی ممالک کو چاہیے کہ وہ اپنی سلامتی کو مذاکرات، اعتماد سازی اور تعاون پر مبنی مشترکہ علاقائی نظام کی بنیاد پر استوار کریں اور بیرونی طاقتوں پر اپنا انحصار کم کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران اپنی جغرافیائی حیثیت کے باعث خطے کا ہمسایہ ملک ہے اور پائیدار علاقائی سکیورٹی کے کسی بھی انتظام سے اسے الگ نہیں کیا جاسکتا۔
البرادعی نے کہا کہ اس سوچ تک پہنچنے میں تقریباً نصف صدی لگ گئی ہے اور مشرق وسطیٰ میں ہونے والی تباہ کن جنگوں نے علاقائی سلامتی کی بنیادوں پر نظرثانی کی ضرورت واضح کردی ہے۔
مصر کے سابق سفارت کار نے دیگر عرب ممالک سے بھی اسی نوعیت کا مؤقف اپنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکی سمیت خطے کے تمام ممالک کی شمولیت سے ایک قابل اعتماد علاقائی سکیورٹی نظام مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی راہ ہموار کرسکتا ہے۔
البرادعی نے فلسطین کے مسئلے کے حل کو بھی ایسے سکیورٹی نظام کی کامیابی کے لیے ضروری قرار دیا اور فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے ساتھ مشرق وسطیٰ کو جوہری ہتھیاروں سے پاک خطہ بنانے کا مطالبہ کیا۔
آپ کا تبصرہ