اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی سیاسی محقق جہاد ایوب نے خبر رساں ادارے ’’المعلومہ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بعض عرب ممالک سے وابستہ میڈیا نے کھلے عام حقائق کو مسخ کرنے کی راہ اختیار کرلی ہے۔
ان کے مطابق یہ میڈیا صیہونی حکومت کو قتل عام اور مسلسل نسل کشی کی جنگ سے بری الذمہ ظاہر کرنے اور اسے خطے میں ایک معمول کی اور قابل قبول فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم عرب عوام اور مزاحمتی تحریکیں اس طرز عمل کو قبول نہیں کرتیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ جانبدار میڈیا مہمات اب صرف جارحیت پر خاموش رہنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ تباہ کاریوں کو جواز فراہم کرنے، انہیں چھپانے اور مزاحمت کے راستے کو بدنام کرنے کے مرحلے تک پہنچ چکی ہیں۔ یہ سب بیرونی طور پر مسلط کیے گئے تعلقات معمول پر لانے کے ایجنڈے کے تحت کیا جا رہا ہے، جو قابض قوت کے مفادات کی خدمت کرتا اور فلسطین کے مسئلے کے اصولوں اور عرب قومی سلامتی کو نشانہ بناتا ہے۔
ایوب نے کہا کہ رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوششیں یقینی ناکامی سے دوچار ہوں گی، کیونکہ آزاد اقوام اس خونریز حکومت کی حقیقت اور جانبدار میڈیا کے سازشی کردار سے بخوبی واقف ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ قبضے کے خلاف رائے عامہ نے ثابت کیا ہے کہ وہ تمام گمراہ کن بیانیوں کو مسترد کرسکتی ہے اور خطے میں تعلقات معمول پر لانے کی تشہیر کرنے والے ذرائع کے سامنے ڈٹ سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ