اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ رمضانی نے اپنے پیغام میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیرى زنجانی کو عالم تشیع کے جلیل القدر مرجع اور روشن ضمیر فقیہ قرار دیتے ہوئے ان کی رحلت کو دینی حلقوں اور حوزہ ہائے علمیہ کے لیے گہرے صدمے کا باعث قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آیت اللہ شبیرى زنجانی نے اپنی بابرکت زندگی علمی گہرائی، فقہ اصیل کی حفاظت و سربلندی اور قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات و احکام کی ترویج کے لیے وقف کردی۔ فقہ، علم رجال، درایہ اور حدیث میں ان کی غیر معمولی مہارت کے ساتھ تقویٰ، تواضع، سادگی اور زہد پر مبنی اخلاقی سیرت نے انہیں علما اور اہل ایمان کے درمیان ایک ممتاز اور قابل اعتماد شخصیت بنا دیا تھا۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا کہ مرحوم فقیہ حوزہ ہائے علمیہ کے ممتاز استاد ہونے کے ساتھ کئی برس تک حرم کریمہ اہل بیتؑ میں امامت کے منصب پر بھی فائز رہے اور اپنی موجودگی سے دینی معاشرے میں اطمینان، سکون اور اعتماد پیدا کرتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ آیت اللہ شبیرى زنجانی اپنے بلند علمی مقام کے ساتھ امامین انقلاب کے ساتھ بھی ہم آواز اور ہم قدم رہے اور حساس مواقع پر نظام اسلامی اور اس کے بلند اہداف کی حمایت کرتے رہے۔
آیت اللہ رمضانی کے مطابق، لوگوں کی خدمت، ان کے مسائل حل کرنے کی کوشش، تواضع اور بے مثال حسن اخلاق بھی آیت اللہ شبیرى زنجانی کی نمایاں خصوصیات میں شامل تھے۔ مختلف طبقات کے لوگوں کے ساتھ ان کا کریمانہ اور پدرانہ برتاؤ انہیں ایک محبوب اور عوامی مرجع بناتا تھا۔
عالمی اسمبلی اہل بیت کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ تشیع کے قدیم علمی ورثے کے اس امانت دار محافظ کا انتقال عالم اسلام اور تشیع کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ بلاشبہ ان کے علمی آثار، تربیت یافتہ شاگرد اور گراں قدر خدمات اسلامی اور اہل بیتؑ کی معارف کی ترویج و سربلندی کے لیے ایک دیرپا سرمایہ رہیں گے۔
انہوں نے اپنے پیغام کے اختتام پر حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے ایام میں ان کے جوار سے اللہ تعالیٰ سے مرحوم مرجع کے درجات کی بلندی، وسیع رحمت، اولیائے الٰہی اور ائمہ اطہارؑ کے ساتھ حشر اور تمام سوگواروں، عقیدت مندوں اور مقلدین، بالخصوص مرحوم کے اہل خانہ اور ان کے فرزندان، آیات سید محمد اور سید محمدجواد شبیرى زنجانی کے لیے صبر جمیل اور اجر عظیم کی دعا کی۔
آپ کا تبصرہ