اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اٹلی کی دائیں بازو کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے اسکولوں میں برقع اور نقاب پر پابندی عائد کی جائے گی، جبکہ کلاس رومز میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد بھی محدود کی جائے گی۔ یہ معاملہ اس وقت زیادہ سیاسی اہمیت اختیار کرگیا ہے جب توقع کی جارہی ہے کہ آئندہ سال اٹلی کے عام انتخابات میں مہاجرت ایک اہم موضوع بن سکتی ہے۔
میلونی نے قوم پرست اور قدامت پسند جماعت ’’برادرز آف اٹلی‘‘ (FdI) کی نوجوان شاخ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ان مجوزہ تبدیلیوں کا اعلان کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان غیر ملکی طلبہ کے والدین کے لیے اطالوی زبان کے کورسز میں شرکت لازمی ہوگی جنہیں تعلیمی نظام میں انضمام کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اٹلی کی وزیر اعظم نے روم میں ’’نوجوانوں کی قومی تقریب‘‘ کے دوران کہا کہ ہمارے نزدیک جو بھی شخص اٹلی آتا ہے اور یہاں اپنا مستقبل بنانا چاہتا ہے، اسے ہماری زبان سیکھنی چاہیے، ہماری ثقافت کو سمجھنا چاہیے اور ہمارے قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، یہی ان لوگوں کو سنجیدہ طور پر قبول کرنے کا واحد راستہ ہے۔
اگر اٹلی کی حکومت ان تبدیلیوں کی منظوری دے دیتی ہے تو انہیں قانون بننے کے لیے 60 دن کے اندر پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کرنا ہوگی۔
میلونی کی دائیں بازو کی حکومت دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد اٹلی کی سب سے طویل مدت تک قائم رہنے والی حکومت ہے۔ تاہم توقع کی جارہی ہے کہ 2027ء میں ان کی جماعت کو ’’نیشنل فرنٹ‘‘ (FN) کی جانب سے سخت چیلنج کا سامنا ہوگا۔ یہ جماعت ’’برادرز آف اٹلی‘‘ سے بھی زیادہ دائیں بازو کی پوزیشن رکھتی ہے اور فروری سے اس کی مقبولیت رائے عامہ کے جائزوں میں تیزی سے بڑھی ہے۔ FN نے رواں سال جولائی میں اٹلی کے اسکولوں میں برقع کے استعمال کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
چہرہ ڈھانپنے سے متعلق قانون
برقع ایسا لباس ہے جو پورے چہرے کو ڈھانپتا ہے اور بعض مسلمان خواتین اسے استعمال کرتی ہیں۔ اس میں آنکھیں بھی چھپی ہوتی ہیں۔ نقاب بھی اسی طرح کا لباس ہے، تاہم اس میں آنکھیں نظر آتی ہیں۔
اٹلی میں ان دونوں لباسوں پر واضح طور پر پابندی عائد نہیں ہے، تاہم 1975ء میں منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت ہیلمٹ یا ایسے لباس کے استعمال پر پابندی ہے جو کسی جائز وجہ کے بغیر کسی شخص کی شناخت مشکل بنا دیں۔
2008ء میں ایک عدالتی فیصلے میں بعد ازاں وضاحت کی گئی کہ مذہبی یا ثقافتی وجوہات کی بنا پر چہرہ مکمل طور پر ڈھانپا جاسکتا ہے، تاہم شناخت کی تصدیق کے وقت چہرہ ظاہر کرنا ضروری ہوگا۔
تاہم اٹلی کی حکمراں اتحادی جماعتوں میں شامل مہاجرت مخالف جماعت ’’لیگ‘‘ نے رواں سال کے آغاز میں ایک تجویز پیش کی تھی، جس کے تحت ہیلمٹ یا شناخت میں رکاوٹ بننے والے لباس کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی بات کی گئی تھی، سوائے بعض مخصوص حالات کے، جن میں کھیلوں کی تقریبات یا عبادت گاہیں شامل ہیں۔
میلونی نے برقع پر پابندی کے اعلان کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہر کلاس میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد کے لیے قانونی حد مقرر کی جائے گی۔
تاہم اٹلی کے موجودہ قوانین میں پہلے ہی ہر کلاس اور اسکول میں غیر ملکی طلبہ کی تعداد کے لیے 30 فیصد کی حد مقرر ہے۔ میلونی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اس حد میں کس طرح تبدیلی کی جائے گی۔
اس وقت غیر ملکی طلبہ اٹلی کے اسکولوں میں زیر تعلیم مجموعی طلبہ کا تقریباً 12 فیصد ہیں۔
آپ کا تبصرہ