اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورت کے مطابق، چینی حکام سے ملاقاتوں کے بعد گفتگو کرتے ہوئے عراقچی نے کہا کہ شی جن پنگ کے اقدامات عالمی مسائل کی نسبت زیادہ درست فہم پر مبنی ہیں، جبکہ بعض مغربی ممالک کے مؤقف میں عالمی معاملات کے تجزیے میں کمزوریاں نظر آتی ہیں۔
عراقچی نے ایران اور چین کے تعلقات کو اسٹریٹجک قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان موجود سیاسی اعتماد اور قیادت کی باہمی رضامندی کے باعث دوطرفہ تعلقات کو مختلف شعبوں میں مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال کو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ ایرانی عوام کی مزاحمت نے حملہ آوروں کو اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام بنایا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں پر چین کے مؤقف اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غلط استعمال کے خلاف بیجنگ کے مؤقف کو بھی سراہا۔
آپ کا تبصرہ