17 ستمبر 2026 - 16:23
سعودی مخالف رہنما: ریاض یمن میں بیرونی طاقتوں کی مدد لینے پر مجبور

سعودی عرب کی جانب سے یمن کی مسلح افواج کے مقابلے میں امریکہ اور برطانیہ سے فوجی مدد طلب کیے جانے کے بعد یمن کی جنگ اور خطے کی سلامتی کی صورتحال ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ سعودی حکومت کے ایک مخالف ڈاکٹر وسام الرمال الشمری کا کہنا ہے کہ ریاض کا بیرونی طاقتوں سے فوجی مدد مانگنا اس کی بڑھتی ہوئی انحصاری کا مظہر ہے اور اس سے یمن کی جنگ میں مزید عالمی طاقتوں کی براہ راست شمولیت کا راستہ ہموار ہوسکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ذرائع ابلاغ میں سعودی عرب کی جانب سے پہلے واشنگٹن اور پھر لندن سے یمن کی مسلح افواج کے مقابلے میں فوجی مدد طلب کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ یہ معاملہ عالمی تعلقات، علاقائی سلامتی اور طاقت کے توازن کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ریاض کی جانب سے بیرونی اتحادیوں کی تلاش کو بعض حلقے فوجی تعطل سے نکلنے کے لیے سعودی حکمت عملی میں تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق، سعودی عرب نے اربوں ڈالر کے دفاعی اخراجات کے باوجود یمن کی جنگ میں کوئی نمایاں کامیابی حاصل نہیں کی اور اب وہ اس جنگ میں عالمی طاقتوں کی مدد کا سہارا لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

یمن کی جنگ میں طاقت کے توازن میں تبدیلی نے اس امکان پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ کہیں ایک داخلی تنازع بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان براہ راست محاذ آرائی میں تبدیل نہ ہوجائے۔ بالخصوص اگر برطانیہ کی جانب سے فوجی مدد یا براہ راست شمولیت کا امکان پیدا ہوتا ہے تو کیا یمن ایک علاقائی بحران سے بڑھ کر عالمی طاقتوں کے براہ راست تصادم کا میدان بن سکتا ہے؟

نئے اتحاد اور خطے میں طاقت کی نئی صف بندی

اسی حوالے سے سابق فوجی ڈاکٹر، سعودی حکومت کے مخالف اور سعودی عرب کے لیے فیڈرل کونسل کے بانی رکن ڈاکٹر وسام الرمال الشمری نے ابنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ گزشتہ ادوار میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے تو پہلے سے پوشیدہ معاملات سامنے آنے لگے اور خطہ نام نہاد ’’مفادات کے اتحاد‘‘ کی جانب بڑھ گیا۔

انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کو خطے کی قیادت کے لیے مکمل اختیار دینے کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد ایران، پاکستان، بھارت اور ترکی چار بڑی طاقتوں کے طور پر سامنے آئے اور انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مختلف اتحاد قائم کیے۔

الشمری کے مطابق، مکہ اتحاد بھی اسی نوعیت کی ایک مثال ہے، جو ترکی اور پاکستان کے بحری بیڑے کی نمائندگی کرتا ہے اور سعودی عرب اس میں صرف ایک مسافر کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایرانی اور بھارتی افواج متحد ہوجائیں تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں ہوگی، کیونکہ ایک بحری بیڑے کا مقابلہ دوسرے بحری بیڑے ہی سے کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے کسی ممکنہ بحری اتحاد کا حصہ کون بنے گا؟ ان کے بقول، متحدہ عرب امارات یقینی طور پر اس کے مسافروں میں شامل ہوگا۔ سعودی عرب میں شمر قبیلہ اور اس کے اتحادی خطے کی صورتحال میں تبدیلی کا ایک اہم اور گمشدہ عنصر ہیں۔ ان کے مطابق، آل سعود کے ساتھ شمر قبیلے کی تاریخی دشمنی کے پیش نظر یہ فطری امر ہے کہ یہ قبیلہ اور اس کے اتحادی ایران کے بحری اتحاد میں شامل ہوں۔

الشمری نے کہا کہ یمنی افواج بھی ایران کے ساتھ ہیں، لہٰذا اگر ایران اور بھارت کا بحری اتحاد تشکیل پاتا ہے تو یمنی افواج بھی اس کا حصہ ہوں گی۔

سعودی طاقت میں کمزوری اور بیرونی افواج پر انحصار

انہوں نے کہا کہ سیاسی اور فوجی اعتبار سے سعودی حکومت اندرون ملک مضبوط ہے، تاہم بیرونی محاذ پر کمزور ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق، واشنگٹن کے ساتھ کئی دہائیوں پر محیط سینکڑوں ارب ڈالر کے اسلحہ معاہدوں اور سعودی فوج کو جدید ریڈار نظام، ڈرونز اور ایف-15 جنگی طیاروں سے لیس کیے جانے کے باوجود ریاض کو یمنی افواج کے مقابلے کے لیے بیرونی ’’کمک‘‘ کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے؟

الشمری نے دعویٰ کیا کہ اس کی وجہ سعودی حکومت کی طاقت کا بتدریج کمزور ہونا ہے، یہاں تک کہ اس کی کمزوری واضح طور پر نظر آنے لگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت اس لحاظ سے خوش قسمت ہے کہ دنیا نے سعودی عرب کے آزاد لوگوں اور ان کے اتحادیوں کی اپنے ملک کی آزادی کے لیے حمایت نہیں کی۔ ان کے مطابق، سعودی حکومت اور اندرون ملک موجود مخالف قوتوں کے درمیان اصل مقابلہ سعودی عرب کے اندر ہوگا، نہ کہ بیرون ملک، جیسا کہ یمن میں ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی لیے سعودی حکومت صرف ’’شمر قبیلے کے آزاد لوگوں‘‘ کا نام سن کر خوفزدہ ہوجاتی ہے، کیونکہ اس صورت میں معاملہ ایک وجودی جدوجہد میں تبدیل ہوجائے گا جس میں ان کے بقول حق باطل پر غالب آئے گا۔

اس سعودی مخالف رہنما نے کہا کہ بلاشبہ ان چار طاقتوں اور خطے میں تشکیل پانے والے سیاسی و فوجی اتحادوں کے پیچھے عالمی طاقتیں موجود ہیں اور یہ سب ’’مفادات کے اتحاد‘‘ کے دائرے میں آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج اصل کشمکش سمندری اور زمینی راستوں پر ہے اور یہ معاملہ دیگر مسائل، حتیٰ کہ جوہری مسئلے سے بھی زیادہ اہم ہے۔ ان کے مطابق، تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ جوہری مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے سیاسی طور پر حل کیا جاسکتا ہے، جبکہ موجودہ صورتحال نے ان راستوں کی حساسیت کو واضح کردیا ہے۔

الشمری نے دعویٰ کیا کہ آج ایران اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کی حمایت کے ساتھ خطے کے سمندری راستوں کو کنٹرول کررہا ہے۔

ایران، بھارت اور امارات؛ ممکنہ نئے اتحاد

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے خیال میں مستقبل میں ایران، متحدہ عرب امارات اور بھارت ایک نیا اتحاد سامنے لاسکتے ہیں۔ ان کے مطابق، موجودہ اور ممکنہ اتحادیوں کے درمیان مفاہمت صرف سمندری راستوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ زمینی راستے بھی اس میں شامل ہوں گے۔

الشمری نے کہا کہ روس، چین اور امریکہ کے ان معاملات کے بارے میں مؤقف سے سب واقف ہیں، اس لیے اصل سوال یہ ہے کہ خطے میں ہونے والی تبدیلیوں میں یورپ اور برطانیہ کا مقام کیا ہوگا؟

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے یورپ کی خودمختاری اور برطانوی بادشاہت کو اس انداز میں چیلنج کیا ہے کہ اس سے دونوں کی وحدت کو خطرہ لاحق ہے۔ ان کے مطابق، اس بنیاد پر یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ برطانیہ اور یورپ بھی خطے میں ایران کے خلاف امریکی جنگ میں امریکہ کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے کہ برطانیہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات اور معاہدوں کے ساتھ ساتھ بھارت کی حمایت میں ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی بھی حمایت کرے گا۔

سعودی عرب اور ہمسایہ ممالک کے تعلقات

الشمری نے کہا کہ سعودی عرب کی اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ معاملات میں ناکامی ثابت ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق، کسی نہ کسی وجہ سے سعودی حکومت کے عراق، ایران، کویت، قطر، متحدہ عرب امارات، یمن اور دیگر ممالک کے ساتھ مسائل ہیں۔

انہوں نے سوال کیا: ’’کیا یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ پوری دنیا غلط ہو اور آل سعود درست ہوں؟‘‘

سعودی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو چیز وہ دوسروں کے لیے ممنوع قرار دیتی ہے، اسے اپنے لیے جائز سمجھتی ہے اور اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ سعودی حکومت کی حمایت کررہا ہے اور ضروری ہے کہ امریکہ خطے سے نکل جائے۔ ہم عرب اور ایرانی، چاہیں یا نہ چاہیں، ایک دوسرے کے ہمسایہ ہیں اور ہمیں باہمی مفاہمت تک پہنچنا ہوگا۔

الشمری نے کہا کہ اگر سمندری راستے ایران کے ہیں تو زمینی راستے عربوں کے ہیں، اس لیے ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ شراکت داری کرنی چاہیے، تاہم ان کے بقول اس کی ایک شرط ہے کہ آل سعود کے لیے مزید کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے آخر میں کہا: ’’ہر دور کے اپنے کردار ہوتے ہیں اور آل سعود کا دور ختم ہوچکا ہے۔‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha