اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی صحافی باراک راوید نے صیہونی حکومت کے چینل 12 پر اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ صیہونی فوج کے سربراہ ایال زامیر نے گزشتہ ہفتے جرمنی میں متعدد عرب ممالک کے فوجی کمانڈروں سے ملاقات کی۔
یہ اجلاس امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سربراہ بریڈ کوپر کی میزبانی میں ہوا، تاہم شریک ممالک کی جانب سے اس اجلاس کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، قطر، اردن اور مصر کی افواج کے کمانڈروں کے علاوہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ اور صیہونی فوج کے سربراہ بھی شریک تھے۔
سینٹکام نے اجلاس کے انعقاد کی تصدیق کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر غور کے لیے ایک طے شدہ کانفرنس قرار دیا ہے۔
اجلاس میں بریڈ کوپر نے شرکاء کو بتایا کہ امریکہ خطے سے اپنی افواج واپس بلانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں امریکی بحری جہازوں کی آمد و رفت بڑھانے کے منصوبے کی بھی وضاحت کی۔
صیہونی ذرائع کے مطابق ایال زامیر نے بھی اجلاس کے شرکاء کو مختلف محاذوں پر صیہونی فوج کی فوجی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب اس میں شریک بعض عرب ممالک کے صیہونی حکومت کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔
رپورٹوں میں اس ملاقات کو گزشتہ چھ ماہ سے زائد عرصے کے دوران ایران کے خلاف امریکہ اور صیہونی حکومت کی جنگ شروع ہونے کے بعد اس سطح کا پہلا اجلاس قرار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب، شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق صیہونی حکومت اور سعودی عرب کے درمیان سینٹکام کی ثالثی میں یمن کی انصار اللہ کے خلاف سعودی فوجی کارروائیوں کے لیے انٹیلی جنس، نگرانی اور اہداف کی نشاندہی سے متعلق تعاون فراہم کرنے پر بھی بات چیت جاری ہے۔
یہ دعویٰ صیہونی ذرائع کی جانب سے سامنے آیا ہے اور سعودی عرب یا صیہونی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے اب تک مزید کوئی باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
آپ کا تبصرہ