16 ستمبر 2026 - 15:56
معاریو: یمن کی صورتحال پر سعودی عرب نے اپنا مؤقف بدل لیا

صیہونی اخبار معاریو نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے انصار اللہ کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فوجی مدد طلب کی ہے، جبکہ ریاض آبنائے باب المندب میں انصار اللہ کے خطرے سے نمٹنے کے لیے امریکی سینٹرل کمانڈ کے ذریعے صیہونی حکومت سے انٹیلی جنس تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی اخبار معاریو کی سیاسی تجزیہ کار آنا بارسکی نے اپنی ایک رپورٹ میں سعودی عرب کے گرد بڑھتی کشیدگی کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یمن کی صورتحال اور مشرق سے مغرب جانے والی سعودی تیل پائپ لائن میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے باعث ریاض کو اپنی برآمدی گزرگاہوں کے حوالے سے مزید مشکلات کا سامنا ہے۔

بارسکی کے مطابق سعودی عرب کی مشرق سے مغرب جانے والی تیل پائپ لائن، جو تیل کو بحیرہ احمر کے ساحل تک پہنچانے اور آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے، عراق کی سرزمین سے کیے گئے ڈرون حملے کے بعد متاثر ہوئی ہے اور اس کی مرمت کا عمل کئی ہفتے جاری رہ سکتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پائپ لائن میں رکاوٹ برقرار رہنے سے عالمی منڈی میں تیل کی فراہمی کا ایک حصہ متاثر ہو سکتا ہے۔

یمن کی حالیہ صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے صیہونی تجزیہ کار نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کو اس وقت دو اطراف سے دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک طرف آبنائے ہرمز مشرق سے تیل کی برآمدات کے لیے خطرہ بن رہی ہے، جبکہ دوسری طرف بحیرہ احمر کے ساحل پر سعودی عرب کا متبادل راستہ ایسے علاقے تک پہنچتا ہے جہاں، ان کے بقول، انصار اللہ کی جانب سے اس راستے کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت بڑھ رہی ہے۔

بارسکی نے مزید دعویٰ کیا کہ انصار اللہ کے حوالے سے ریاض کے مؤقف میں تبدیلی آئی ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب نے جولائی میں واشنگٹن کو بتایا تھا کہ وہ انصار اللہ کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کشیدگی میں اضافے کو روکنے کا خواہاں ہے، لیکن اب محمد بن سلمان نے امریکی صدر سے فوجی مدد طلب کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اب تک انصار اللہ کے خلاف براہِ راست حملے کرنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی، تاہم انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے اور اہداف کے تعین میں تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

بارسکی نے مزید دعویٰ کیا کہ محمد بن سلمان نے حالیہ دنوں میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے ذریعے بالواسطہ طور پر صیہونی حکومت سے بھی باب المندب کے علاقے میں انصار اللہ کا مقابلہ کرنے کے لیے انٹیلی جنس مدد طلب کی ہے۔

تاہم خود صیہونی تجزیہ کار نے واضح کیا ہے کہ سعودی عرب یا صیہونی حکومت کی جانب سے اب تک ان دعوؤں کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

تجزیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اگر اس طرح کے رابطوں کی اطلاعات درست ثابت ہوتی ہیں تو باب المندب میں بحری جہازوں کی سلامتی سعودی عرب، صیہونی حکومت، امریکہ اور بعض یورپی ممالک کے مفادات کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا سبب بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بحیرہ احمر کی بحری گزرگاہوں سے متعلق ان فریقوں کے مشترکہ مفادات کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha