اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، انصار اللہ یمن کے سرکاری ترجمان محمد عبدالسلام نے کہا ہے کہ سعودی حکومت یمن کے خلاف اپنے فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور گزشتہ چند دنوں کے دوران یمن پر 350 سے زائد فضائی حملے کیے جاچکے ہیں، جن کے نتیجے میں سرکاری اور نجی املاک کو نقصان پہنچا جبکہ متعدد شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یمن کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزی، عوام اور ان کی املاک کو نشانہ بنانے کے نتائج کی مکمل ذمہ داری سعودی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔
انصار اللہ کے ترجمان نے کہا کہ یمن کے خلاف فوجی کشیدگی سے سعودی عرب اپنے کسی بھی مقصد کو حاصل نہیں کرسکے گا بلکہ اس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اس سے پہلے بھی فوجی راستہ آزما چکا ہے، لیکن اسے شکست کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ان کے بقول، ناکام ثابت ہونے والے فوجی راستے کی طرف دوبارہ واپسی سعودی عرب کی جارحانہ سوچ کا نتیجہ ہے، جو مذاکرات اور امن پر یقین نہیں رکھتی۔
محمد عبدالسلام نے مغربی ساحل میں حالیہ کارروائیوں کے نتائج کے بارے میں کہا کہ وہاں اب صورتحال معمول پر آچکی ہے اور ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری ادارے عوام کی خدمت کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے واپس آچکے ہیں اور کسی قسم کی انتقامی کارروائی بھی دیکھنے میں نہیں آئی، جو یمنی فوج کے اخلاقی اور انسانی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
عبدالسلام نے کہا کہ اس کے برعکس سعودی عرب عالمی برادری کو اپنے مخصوص طریقے سے گمراہ کرنے اور بحیرہ احمر اور باب المندب میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو لاحق خطرات کا بہانہ بنا کر خوفزدہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب بے بنیاد اور غلط معلومات کے ذریعے دنیا کو اشتعال دلا رہا ہے تاکہ بعض ممالک کو یمن میں اپنی بے مقصد مہم جوئی میں شریک کیا جاسکے۔
انصار اللہ کے ترجمان نے دنیا کے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مفاد میں نہیں کہ وہ سعودی عرب کے ان جھوٹے دعوؤں کے جال میں پھنسیں، جن کا سہارا سعودی حکومت گزشتہ 12 برس سے لیتی آرہی ہے اور اب بھی اسی روش پر قائم ہے، جبکہ اس پر مزید کوئی
آپ کا تبصرہ