اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ابنا سے گفتگو کرتے ہوئے سید عباس موسوی نے عراق میں مزاحمتی گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی کوششوں کے حوالے سے کہا کہ کتائب سید الشہداء کی جانب سے پیش کی گئی شرائط سے وہ مکمل طور پر متفق ہیں اور انہیں جائز اور منطقی مطالبات قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ شرائط صرف ایک گروہ کا مؤقف نہیں بلکہ عراق کی موجودہ مزاحمتی تنظیموں کی سوچ کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کے بقول امریکی مداخلت کا مقصد عراق کو کمزور کرنا اور اس کے مختلف ڈھانچوں کو نقصان پہنچانا ہے۔
نجباء کے نمائندے نے کہا کہ مزاحمتی قوتیں ان منصوبوں کے خلاف اپنی پوری طاقت سے کھڑی ہوں گی اور انہیں ناکام بنانے کی کوشش کریں گی۔
شہید رہنما کے انتقام اور خون بہا کے حوالے سے سید عباس موسوی نے کہا کہ وہ اپنے رہنما کے راستے کو جاری رکھیں گے اور ان کے قاتلوں اور ان کے ساتھ کھڑے ہونے والوں کو نشانہ بنانے کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں استعمال کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت کا پہلا اعلان کردہ منصوبہ خطے سے امریکی افواج کا انخلا ہے، جبکہ دیگر منصوبے بھی موجود ہیں جنہیں فی الحال ظاہر نہیں کیا جا سکتا اور ان کے نتائج مستقبل میں سامنے آئیں گے۔
آپ کا تبصرہ