12 ستمبر 2026 - 05:28
انصار اللہ کے خلاف نہیں لڑیں گے، اماراتی اجرتیوں نے سعودی اجرتیوں کی درخواست مسترد کر دی

امارات سے منسلک علیحدگی پسند گروپ "جنوبی عبوری کونسل" سے وابستہ مسلح گروپوں نے جمعہ کے روز سعودی اجرتی گروپوں کی انصاراللہ سے لڑنے کی درخواست مسترد کر دی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امارات سے منسلک علیحدگی پسند گروپ "جنوبی عبوری کونسل" سے وابستہ مسلح گروپوں نے ایک بیان جاری کرکے اس بات پر زور دیا کہ وہ جنوبی علاقوں سے باہر سعودی عرب سے وابستہ کسی بھی فوجی مشن میں حصہ نہیں لیں گے۔

متحدہ عرب امارات ـ جس کو بعض تجزیہ کار 'متحدہ عبرانی امارات' بھی کہتے ہیں ـ سے وابستہ جنوبی عبوری کونسل یمن کے جنوب کو سرزمین یمن سے الگ کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

اس بیان میں اماراتی اجرتیوں نے دعویٰ کیا کہ "جنوبی یمن، اس کی سرحدوں اور وہاں کے عوام کی حفاظت ایک مستقل ترجیح ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا اور اس سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی"۔

ان گروپوں نے اعلان کیا کہ انہوں نے سعودی سے وابستہ سرغنوں سے دستبرداری اختیار کر لی ہے، اور کہا کہ "وہ عدن میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لئے عبوری کونسل کے سربراہ، عیدروس الزبیدی کے ساتھ کھڑے رہیں گے"۔

واضح رہے کہ عبوری کونسل گذشتہ جولائی سے اپنے ماتحت گروپوں کو سعودی قیادت میں صنعا کی افواج کے خلاف کسی بھی میدانی کشیدگی میں شامل کرنے سے گریز کرتی رہی ہے۔

عبوری کونسل نے دلیل دی کہ ان جھڑپوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور اس سے "جنوب کے مسئلے" کو فائدہ نہیں پہنچتا، اور اعلان کیا کہ وہ انصاراللہ سے ٹکراؤ پر آمادہ نہیں ہے۔

سعودی عرب نے گذشتہ سال کے آخر میں وادی حضرموت میں امارات سے وابستہ عبوری کونسل پر اچانک منتقلی حملہ کیا جس میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔

سعودی عرب ان حملوں پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ گذشتہ جنوری کے اوائل میں عبوری کونسل کی تحلیل کا اعلان کیا اور الزبیدی پر امارات کے حق میں "غداری" کا الزام لگایا اور شہر عدن اس کے نکلنے کے بعد اس کے آبائی علاقے الضالع پر کئی فضائی حملوں کے ذریعے اسے قتل کرنے کی کوشش کی۔

الزبیدی جو آج تک کسی خفیہ مقام پر چھپا ہؤا ہے۔

سعودی عرب کے بیان کے مطابق، الزبیدی سمندری راستے سے عدن سے صومالیہ اور وہاں سے اماراتی افسروں کی مدد سے ابوظہبی فرار ہونے میں کامیاب ہؤا۔

عبوری کونسل کا ایک وفد بھی ـ جو ایک مشترکہ اجلاس میں ریاض گیا تھا ـ گذشتہ جنوری سے سعودی عرب میں قلعہ بندی کی زندگی گذارنے پر مجبور ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha