بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسٹریٹجک امور کے ماہر اور ایران کی اعلیٰ قومی دفاعی یونیورسٹی کے پروفیسر و فیکلٹی ممبر، ڈاکٹر فتح اللہ کلانتری نے فارس خبر ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی انقلاب کی بحریہ کی گذشتہ منگل کی رات کی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
اس کارروائی کا تجزیہ امریکہ کے اسٹریٹجک فوجی اثاثوں اور برتریوں کو کھوکھلا کرنے اور ناکام بنانے کی حکمت عملی کے دائرے میں کیا جا سکتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کارروائی اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے ایک فتح تھی؛ لیکن اس کے پہلوؤں کو محض ایک فوجی تدبیر (Tactic) کی کامیابی تک محدود نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کے لئے ایک تزویراتی فتح اور امریکہ کے لئے ایک تزویراتی شکست تھی؛ ایسی کارروائی جس کے ادراکی اور جنگی پہلو ہیں اور جو سائبر جنگ، دشمن کی الیکٹرانک جنگ کے مقابلے میں انسدادی اقدامات (Electronic Counter Measures) اور زیر آب جنگ کا امتزاج ہے۔
امریکہ کی فضائی اور بحری برتری کو ناکام بنانا
امریکہ کی فوجی طاقت کے ستونوں کے بارے میں میرا جائزہ یہ ہے کہ امریکی ہمیشہ اپنی طاقت کے دو بنیادی ستونوں پر انحصار کرتے تھے:
1۔ فضائی طاقت، خصوصاً ایف 35 لڑاکا طیارے
2۔ بحری اور زیرآب جنگی صلاحیت؛ میزائل داغنے اور طویل فاصلوں سے سے کارروائیاں کرنے کے لئے۔
امریکہ کی فضائی برتری جو ایف 35 پر منحصر تھی، اس سے قبل ملک کے فضائی دفاع کی کارکردگی کے ذریعے ـ رمضان کی جنگ کے دوران ـ ناکام بنائی جا چکی تھی؛ اور ایک ایف 35 کے گرنے کے بعد، امریکیوں نے اس لڑاکا طیارے کے ذریعے فضائی کارروائیاں اور بمباریاں ایجنڈے سے تقریباً ہٹا دیں اور زیادہ تر میزائل صلاحیت اور ساحل سے سمندر یا سمندر سے ساحل پر میزائل داغنے پر انحصار کیا۔
اس صورتحال میں، امریکی فوج کا جنگی جہازوں اور آبدزوں سے میزائل داغنے پر انحصار بڑھ گیا۔ اس نقطہ نظر سے، گذشتہ منگل کی رات سپاہ بحریہ کی کارروائی کا جائزہ، امریکہ کی بحری اور زیر آب برتری کو کھوکھلا کرنے اور ناکام بنانے کے دائرے میں، کیا جا سکتا ہے۔
سپاہ بحریہ نے اس کارروائی کے ذریعے امریکی فوج کی وہ صلاحیت بھی چھین لی جس پر اس نے انحصار تھا؛ اسی وجہ سے میں اس اقدام کو امریکہ کی زیرآب طاقت کو ناکام بنانے کی کارروائی قرار دیتا ہوں؛ کیونکہ یہ فوج جن دو ستونوں سہارا لی ہوئی تھی، یعنی ایف 35 پر منحصر فضائی طاقت اور بحری و زیر آب میزائل صلاحیت، اپنی سابقہ کارکردگی کھو چکی ہیں۔
اس نقطہ نظر سے کہا جا سکتا ہے کہ گذشتہ منگل کی رات سپاہ بحریہ کی کارروائی نے امریکی فوج کی طویل فاصلوں سے جنگی کاروائیوں کی صلاحیت کو نشانہ بنایا اور دنیا کے لئے اہم تزویراتی پیغامات بھیجے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ