اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کے ایک پلیٹ فارم پر اپنے پیغام میں امریکی صدر کے اس دعوے کا حوالہ دیا کہ ایران لاس اینجلس اور سان ڈیاگو شہروں پر حملہ کر سکتا ہے۔ امریکی صدر نے اس حوالے سے ممکنہ تباہی کو ’’بہت معمولی قیمت‘‘ قرار دیا تھا۔
بقائی نے لکھا کہ اپنے عوام کو خوف زدہ کرنے کے لیے وہ آسمان میں ایک فرضی دشمن کا تصور پیش کرتے ہیں تاکہ زمین پر موجود حقیقی خطرے سے توجہ ہٹائی جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حقیقی خطرہ نہ سرحدوں کے پار ہے اور نہ ہی لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کے آسمان پر؛ اصل خطرہ وہ حکمران قیادت ہے جس نے دنیا پر ایک غیر قانونی جنگ مسلط کر رکھی ہے، جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہو رہے ہیں۔
بقائی نے کہا کہ امریکی صدر نے لاس اینجلس اور سان ڈیاگو کی تباہی کو بھی ’’بہت معمولی قیمت‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ ’’خوف کی سیاست‘‘ کی واضح مثال ہے: لوگوں کو ایک فرضی خطرے سے ڈرایا جائے، ان کے شہروں کی تباہی کو قابلِ قبول قیمت کے طور پر پیش کیا جائے اور انہیں اس طرح حقیقی خطرے سے غافل کر دیا جائے۔
آپ کا تبصرہ