11 ستمبر 2026 - 17:34
المخا سے باب المندب تک؛ یمنی مسلح افواج کا ساحلِ مغربی پر مکمل کنٹرول

یمن کی مسلح افواج نے ساحلِ مغربی کے اہم شہر المخا اور باب المندب سے متصل ساحلی علاقوں سمیت بحیرہ احمر کے متعدد اہم جزیروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، جس کے بعد یمن کی جنگی صورتحال میں ایک بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے اور باب المندب پر یمنی افواج کا براہِ راست کنٹرول قائم ہوگیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کے ساحلِ مغربی کا اہم شہر المخا اور اس سے متصل تمام ساحلی پٹی یمنی مسلح افواج کے کنٹرول میں آ گئی ہے، جس کے نتیجے میں باب المندب آبنائے پر بھی ان کا براہِ راست کنٹرول قائم ہوگیا ہے۔ اس پیش رفت سے یمنی مسلح افواج کو دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل باب المندب سے گزرنے والی بحری تجارت پر زیادہ مؤثر نگرانی کا موقع مل گیا ہے، جس کے عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل اور رسد پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔

لبنانی اخبار الاخبار کے مطابق، سعودی عرب کی حمایت یافتہ عدن حکومت کی صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی بظاہر اس پیش رفت کی اہمیت سے آگاہ ہیں۔ انہوں نے المخا اور باب المندب کے ہاتھ سے نکلنے کو محض یمنی مسئلہ قرار دینے سے گریز کرتے ہوئے بالواسطہ طور پر ان علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بیرونی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

مغربی محاذوں کا سقوط اور باب المندب تک پیش قدمی

یمنی مسلح افواج نے گزشتہ روز ساحلِ مغربی کے محاذ پر لڑائی کو مکمل طور پر اپنے حق میں ختم کرتے ہوئے الحدیدہ کے جنوب میں الجراحی، حیس اور الخوخہ کے محاذوں پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔

اگرچہ سعودی جنگی طیاروں نے جبل النار اور ذوباب کے علاقے میں مدارس العمری کے مقامات پر متعدد فضائی حملے کیے، تاہم یمنی مسلح افواج نے عدن، لحج اور المخا کو ملانے والی ساحلی پٹی کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے اس پر بھی کنٹرول حاصل کرلیا۔

اس پیش رفت کے بعد المخا کی جانب تمام امدادی اور رسدی راستے منقطع ہوگئے۔ المخا سعودی حمایت یافتہ نیشنل ریزسٹنس کے سربراہ طارق صالح کے زیر قیادت فورسز کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔

جنوبی الحدیدہ کے مختلف محاذوں پر سعودی حمایت یافتہ فورسز بھی تیزی سے منتشر ہوگئیں۔ اس کے نتیجے میں پہلی مرتبہ یمنی مسلح افواج نے حیس اور الخوخہ کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے دونوں شہروں کا کنٹرول حاصل کیا اور اس کے بعد المخا کے مشرق میں واقع شہر یختل کی طرف بڑھیں۔

یمنی مسلح افواج نے متعدد سمتوں سے المخا کا محاصرہ تنگ کرنے کے بعد شہر میں داخل ہوکر سرکاری مراکز اور تنصیبات کا مکمل کنٹرول سنبھال لیا۔

سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پسپائی

اس بڑی فوجی پیش رفت کے بعد جنوبی یمن کی تمام سلفی فورسز، جو ذوباب کے محاذ پر مدارس العمری میں تعینات تھیں، فوری طور پر پسپا ہوگئیں۔

یہ پیش رفت ان رپورٹس کے بعد سامنے آئی کہ عدن حکومت کی صدارتی کونسل کے نائب سربراہ طارق صالح اپنے ساتھیوں سمیت المخا سے نامعلوم مقام کی جانب روانہ ہوگئے ہیں۔

یمنی مسلح افواج نے گزشتہ چند روز کے دوران جنوبی الحدیدہ اور مغربی تعز کے محاذوں پر نمایاں پیش قدمی کرتے ہوئے خالد بن ولید کے اہم فوجی کیمپ پر بھی قبضہ کرلیا تھا۔

اس کے بعد یمنی مسلح افواج سے وابستہ بحری فورسز نے باب المندب پر واقع اہم جزیروں، جن میں اہم جزیرہ کمران اور بحری جہازوں کی گزرگاہ میں واقع جزیرہ زقر شامل ہیں، کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا۔ الخوخہ کے سامنے واقع بڑے حنیش، چھوٹے حنیش اور دیگر جزائر بھی یمنی فورسز کے کنٹرول میں آگئے۔

طارق صالح: جنوبی المخا میں فورسز کی نئی صف بندی

ان پیش رفتوں کے بعد طارق صالح نے اعلان کیا کہ ساحلِ مغربی میں عدن حکومت کی فورسز کو اپنی صفیں دوبارہ منظم کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جنوبی المخا میں ایک متبادل کمان مرکز قائم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ریزسٹنس، عمالقہ بریگیڈز، درع الوطن فورسز اور تعز محاذ کی یونٹوں نے لڑائی کے دوران جانی نقصان اٹھایا ہے۔

دوسری جانب رشاد العلیمی نے ایک بیان میں کہا کہ باب المندب کے قریب فوجی صورتحال تبدیل کرنے کی کوشش کو صرف یمنی مسئلہ قرار

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha